باب سوم
”بس اس ایک بار…“
پہلا قدم آپ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں کیسے سرایت کر جاتا ہے؟
میز پر رکھا پیکٹ
کریم نے دو سال پہلے سگریٹ چھوڑ دیا تھا، جب وہ سولہ سال کا تھا۔ یہ خود سے کیا ہوا وہ وعدہ تھا جسے اس نے سب سے زیادہ عرصے تک نبھایا تھا۔ اور واحد وعدہ بھی جسے اس نے کسی فہرست میں نہیں لکھا تھا۔ اس نے کسی کو نہیں بتایا کہ اسے کتنی قیمت چکانی پڑی تھی: کئی ہفتوں کا چڑچڑاپن، اور ہر جیب میں چیونگ گم۔ اس نے ایک جملہ یاد کر لیا تھا۔ اسے اتنا دہرایا کہ وہ خودبخود زبان پر آنے لگا: میں سگریٹ نہیں پیتا۔ دوستوں کے ساتھ بھی نہیں، رات کی کسی محفل میں بھی نہیں۔
پڑھائی شروع ہونے کے ایک ماہ بعد ہاسٹل کے تین لڑکوں نے اس کے دروازے پر دستک دی۔ وہ قریبی کیفے میں رات کو تاش کھیلنے جا رہے تھے اور انہیں چوتھے ساتھی کی ضرورت تھی۔ کریم نے کہا: ”ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گا۔“ کیفے میں میز کے کنارے سگریٹ کا کھلا پیکٹ رکھا تھا۔ کریم اس سے سب سے دور والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ایک لڑکے نے پتے بانٹے اور چائے کے گلاس آ گئے۔
ایک گھنٹہ گزرا، پھر دوسرا۔ کریم دو بازیاں ہارا۔ ہاسٹل میں آنے کے بعد وہ کبھی اتنا نہیں ہنسا تھا۔ تیسری بازی میں ساتھ بیٹھے لڑکے نے میز کے کنارے سے پیکٹ اٹھایا۔ اپنے لیے ایک سگریٹ نکالا، پھر پیکٹ اس کی طرف بڑھایا: ”ایک؟“ یہ کوئی اجنبی پیکٹ نہیں تھا۔ اس کا رنگ بھی مانوس تھا، اور جلانے سے پہلے سگریٹ کو تھپتھپانے کی حرکت بھی۔ اس نے ان دو سالوں کے بارے میں سوچا۔ اسے لگا کہ اس دوران طلب مر چکی ہے۔ ایک سگریٹ اسے دوبارہ نہیں جگائے گا۔
اس نے کہا: ”بس اس ایک بار۔“ لڑکے نے پیکٹ ہلایا تو ایک سگریٹ باہر کو نکل آیا۔ کریم نے اسے لے لیا۔
کریم نے سگریٹ جلایا اور واقعی اس سے لطف لیا۔ ایک ہفتے بعد ایک اور محفل میں اس نے پھر وہی جملہ کہا: ”بس اس ایک بار۔“ ایک ماہ بعد اس نے پورا پیکٹ خریدا، پھر ایک اور۔ اس نے پیکٹ اسی دراز میں چھپا دیے، اس لفافے کے اوپر جسے اس نے کھولا نہیں تھا۔ فون میں لکھا: اس کے بعد اور نہیں خریدوں گا۔ اگلی رات قلم لینے کے لیے دراز کھولا تو سب سے پہلے پیکٹ نظر آیا۔
اس کے کمرے کے ساتھی نے پوچھا: ”تم سگریٹ پینے لگے ہو؟“ اس نے کہا: ”بس رات کی محفلوں میں۔“ مگر اس رات پیکٹ اس کی میز پر تھا، اور کمرے میں کوئی محفل نہیں تھی۔ اس نے اسے واپس دراز میں رکھ دیا۔ صبح اسے اپنا پرانا جملہ یاد آیا۔ اس میں لفظ ”بس“ نہیں تھا۔
ممکن ہے آپ کی دی ہوئی چھوٹ سگریٹ کی نہ ہو۔
فون میز پر ہے۔ آدھی رات ہونے کو ہے۔
آپ نے اس ہفتے جلدی سونے کا فیصلہ کیا تھا۔ مسلسل پانچ راتیں کامیاب بھی رہے۔ آج رات پیغام دیکھنے یا کوئی مختصر ویڈیو دیکھنے کے لیے ایک ایپ کھولتے ہیں۔ ”بس پانچ منٹ کے لیے۔“
سر اٹھاتے ہیں تو رات کے دو بج رہے ہیں۔ نیند پھر دور جا چکی ہے، بالکل جیسے پانچ راتیں پہلے تھی۔
وہ پانچ منٹ کبھی صرف پانچ منٹ تھے ہی نہیں۔ وہ اس راستے کا پہلا قدم تھے جسے آپ پہلے سے جانتے تھے۔
اور صبح آپ صرف اس ویڈیو کی قیمت نہیں چکاتے۔ دیر سے اٹھتے ہیں، ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں اور الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کام پر پہنچتے ہیں۔ پیغام دو بار پڑھتے ہیں مگر سمجھ نہیں پاتے کہ آپ سے کیا کہا گیا ہے۔ واپس آ کر ان لوگوں پر جلدی غصہ کرتے ہیں جو آپ کے ساتھ نہیں جاگے تھے، نہ آپ کا فیصلہ انہوں نے کیا تھا۔ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا طے تھا۔ تھکن کی وجہ سے آپ کہتے ہیں کہ یہ وقت بعد میں رکھ لیں۔ یوں ”بس اس ایک بار“ آپ کے ہاتھ کی اسکرین سے نکل کر پورے دن میں پھیل گیا۔ ان لوگوں تک بھی پہنچا جو آپ کے فیصلے میں شریک ہی نہیں تھے۔ اس رات کی قیمت آپ کی نیند کے گھنٹوں سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ چھوٹ ایک معمولی رقم کی بھی ہو سکتی ہے، جو آپ اس پیسے میں سے خرچ کرتے ہیں جسے واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کہتے ہیں: مقررہ وقت سے پہلے پوری کر دوں گا۔ پھر وقت آتا ہے تو آپ اسے آگے کر دیتے ہیں۔ قرض دینے والے کو دوبارہ اپنا حق مانگنا پڑتا ہے۔ رقم چھوٹی ہے، مگر آپ نے اپنے تعلق پر ایک بوجھل گفتگو کا بار ڈال دیا۔ ہر ٹھوکر راستے کا اختتام نہیں ہوتی۔ خطرہ یہ ہے کہ ہر بار لفظ ”بس“ کے نیچے حساب چھپا دیا جائے۔ دیکھیے کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ کون سا کام پیچھے رہ گیا؟ کس کو انتظار کرنا پڑا؟ کس وعدے پر یقین کرنا اب زیادہ مشکل ہو گیا؟ یہ وہ بل ہے جو خود کو چھوٹ دیتے وقت آپ کو نظر نہیں آتا۔
تو ”بس پانچ منٹ“ اور رات کے دو بجے کے درمیان کیا ہوتا ہے؟
”جب بگاڑ ہی دیا ہے تو اب کیا فرق پڑتا ہے“
جس نے کبھی غذا پر پابندی لگانے یا کوئی عادت چھوڑنے کی کوشش کی ہو، وہ اس اندرونی آواز کو جانتا ہے۔ پہلی چھوٹی سی لغزش کے بعد یہ سرگوشی کرتی ہے: جب بگاڑ ہی دیا ہے تو اب کیا فرق پڑتا ہے۔ کرتے رہو۔
محقق اور لیکچرر کیلی میک گونیگل اپنی کتاب The Willpower Instinct (2011) میں اس رویے کی وضاحت کرتی ہیں1۔ پہلی چھوٹ فوراً آپ کا عزم نہیں توڑتی، مگر ایک چھوٹا سا دروازہ کھول دیتی ہے۔
محقق جارج اینزلی ذاتی اصولوں کی دو قسموں میں فرق کرتے ہیں2۔ ایک لچک دار اصول جس پر ہر صورتِ حال میں سودے بازی ہو سکتی ہے۔ مثلاً ”رات کی محفلوں میں کبھی کبھار سگریٹ پی لیا کروں گا۔“ دوسرا اصول ایک واضح حد قائم کرتا ہے۔ اس میں ہر بار نیا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلاً ”میں سگریٹ نہیں پیتا۔ بات ختم۔“
لچک دار اصول ہر موقعے پر بحث کے لیے کھل جاتا ہے۔ اکثر اس بحث میں پڑتے ہی آپ اصول چھوڑ بیٹھتے ہیں، اس سے پہلے کہ کوئی چیز آپ کو للچائے۔
وہ نظیر جو اگلا اصول بناتی ہے
ایک سگریٹ ایک ماہ میں پورا پیکٹ کیسے بن جاتا ہے؟
کیونکہ ہر چھوٹ اپنے حجم سے بڑا اثر چھوڑتی ہے۔ وہ ایک نظیر بن جاتی ہے جسے ذہن اگلی بار دلیل بنا لیتا ہے۔
محقق ڈیان وان نے ایسی ہی صورت بڑی تنظیموں میں دیکھی جو حفاظتی معیاروں کی کڑی نگرانی کرتی ہیں۔ اصول سے معمولی انحراف ہوتا ہے، مگر کوئی واضح نقصان نہیں ہوتا۔ چپکے سے اسے قابلِ قبول قرار دے دیا جاتا ہے۔ اب یہی بنیاد بن جاتا ہے جس پر اگلا، ذرا بڑا انحراف پرکھا جاتا ہے3۔
تیسری بار دوسری کے مقابلے میں کم جواز چاہیے۔ چوتھی بار تو قابلِ ذکر جواز کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
پہلا سگریٹ جلاتے یا ”پانچ منٹ کے لیے“ ایپ کھولتے وقت یہی بات ہمیں نظر نہیں آتی: ہم صرف اس بار کا فیصلہ نہیں کر رہے۔ ہم اس جیسی ہر بار کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
”میں نہیں کرتا“ میں ”میں نہیں کر سکتا“ سے زیادہ مضبوطی ہے
زبان کا ایک چھوٹا سا فرق بھی ہے جسے آزما کر دیکھیے۔
چھوٹے تجربات کے ایک سلسلے میں محققین ونیسا پیٹرک اور ہینرک ہاگٹویٹ نے کسی کشش کا سامنا کرنے والے شرکا سے کہا کہ وہ اپنے آپ سے ایک مختصر جملہ دہرائیں۔ کچھ نے ”میں نہیں کر سکتا“ کہا، اور کچھ نے ”میں نہیں کرتا“۔
جب مقصد خود فرد کی اپنی خواہش سے پیدا ہوا تھا تو ”میں نہیں کرتا“ نے ”میں نہیں کر سکتا“ کے مقابلے میں کشش کا مقابلہ کرنے میں زیادہ مدد دی۔ جب تجربے میں مقصد کے لیے کسی بیرونی محرک کو نمایاں کیا گیا تو برتری الٹ گئی4۔
”میں نہیں کر سکتا“ آپ پر باہر سے عائد پابندی کو بیان کرتا ہے۔ ایسی پابندی ذہن کو فوراً اس پر سودے بازی کی دعوت دیتی ہے۔
”میں نہیں کرتا“ اس شناخت کو بیان کرتا ہے جو آپ نے خود چنی ہے۔ ایسی پابندی کو نہیں جس سے نکلنے کے موقعے کا انتظار ہو۔
دو جملوں کا موازنہ کیجیے۔ پہلا: میں یہ ٹکڑا نہیں کھا سکتا، کیونکہ میں پرہیزی غذا لے رہا ہوں۔ دوسرا: میں سورج غروب ہونے کے بعد میٹھا نہیں کھاتا۔
چاک کی لکیر
واضح حد قائم کرنا ایک عملی تدبیر ہے جسے سیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی پیدائشی صلاحیت نہیں جو صرف کچھ لوگوں کو ملی ہو۔ تو آپ اپنی لکیر کیسے کھینچیں؟
کیا اتنا سخت اصول اصل زندگی کے لیے حد سے زیادہ بے لچک نہیں؟ مسئلہ لچک میں نہیں، اس کے طے ہونے کے وقت میں ہے۔ کسی عام رویے میں، جس میں لت شامل نہ ہو، پہلے سے طے کی ہوئی چھوٹ بھی واضح حد کو برقرار رکھتی ہے۔ مثلاً ”میں دس بجے کے بعد فون استعمال نہیں کرتا، سوائے گھر والوں کی ضروری کال کے۔“ فیصلہ کشش آنے سے پہلے ہو چکا ہے، بعد میں نہیں۔ دروازہ وہ چھوٹ کھولتی ہے جو عین کشش کے لمحے میں گھڑی جائے۔ مگر سگریٹ نوشی ایک لت ہے۔ اسے چھوڑتے وقت پہلے سے طے کی ہوئی چھوٹ کی بھی گنجائش نہیں۔ چاہے وہ سال میں صرف ایک بار ہو۔ منصوبے کے ساتھ طبی مدد کے لیے ضمیمہ دیکھیے۔
اور اگر ایک بار اپنا اصول توڑ دیں؟ باب کے آغاز میں ملنے والی آواز کہے گی: جب بگاڑ ہی دیا ہے تو اب کیا فرق پڑتا ہے۔ اس کی بات نہ مانیے۔ ایک بار لکیر پار کر لینے سے وہ مٹ نہیں جاتی۔ وہ تب مٹتی ہے جب آپ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اب وہ موجود ہی نہیں۔ اگلے موقعے پر اس کی طرف لوٹیں۔ پوچھیے کہ ہوا کیا تھا، پوری کوشش کو ناکام قرار دیے بغیر۔
اس ہفتے ایک چھوٹی سی لکیر ان دس لکیروں سے زیادہ اہم ہے جو آپ لکھ لیں مگر ان پر قائم نہ رہیں۔ سب سے آسان اصول سے شروع کریں، سب سے فوری ضرورت والے سے نہیں۔ اس میں کامیابی آپ کو طریقہ سکھائے گی، اس سے پہلے کہ آپ زیادہ مشکل اصول کا سامنا کریں۔
کب استعمال کریں: جب عین کشش کے لمحے میں خود کو دی ہوئی چھوٹ بار بار دہرائی جائے۔ درکار وقت: اصول لکھنے کے لیے پانچ منٹ، اور اسے آزمانے کے لیے ایک ہفتہ۔
- اسے اپنی شناخت کے انداز میں کہیں: ”میں یہ کام نہیں کرتا“، بجائے ”میں یہ کام نہیں کر سکتا“ کے۔
- اس کی حدود واضح کریں: یہ کب لاگو ہوتا ہے؟ اگر کوئی ضروری چھوٹ ہے تو کیا ہے؟ اسے ابھی طے کریں، کشش کے لمحے میں نہیں۔ ”اکثر“ اور ”عموماً“ حدود نہیں ہیں۔
- ضرورت پڑنے سے پہلے جملہ تیار رکھیں: جب ”بس اس ایک بار“ کی آواز سرگوشی کرے تو بات یوں پوری کریں: ”میں صرف اس بار کا فیصلہ نہیں کر رہا، بلکہ اس جیسی ہر بار کا فیصلہ کر رہا ہوں۔“
- اسے وہاں لکھیں جہاں نظر آئے: نمایاں رکھا ہوا نوٹ، یا بٹوے میں ایک کارڈ۔ صرف ذہن میں نہیں۔
اگر گر جائیں: وہ چھوٹ درج کریں جس نے دروازہ کھولا۔ اگلے موقعے پر اصول کی طرف لوٹیں۔ اسے باقی ہفتے پر اختیار نہ دیں۔
کریم نے آخری پیکٹ گلی کے آخر میں کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا۔ گلی میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔ کمرے میں لوٹ کر اس نے ایک کارڈ لکھا: ”میں سگریٹ نہیں پیتا، رات کی محفلوں میں بھی نہیں۔“ اسے بٹوے میں رکھ لیا۔ شام کو ہاسٹل کے ایک لڑکے نے دروازے پر اسے سگریٹ پیش کیا۔ کریم نے کہا: ”آج نہیں۔“ لڑکا مسکرایا۔ ہاتھ بڑھائے رکھا: ”آج اور کل میں کیا فرق ہے؟“ کریم نے جواب سوچا مگر کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے سگریٹ لے لیا۔ آدھا پیا، پھر فٹ پاتھ کے کنارے مسل دیا۔
اس نے کارڈ دوبارہ پڑھا۔ واضح حد لکھی تھی، پھر ”آج نہیں“ کہہ کر اس میں چھوٹا سا دروازہ کھول دیا تھا۔ اس نے ”اگر گر جائیں“ والی سطر پڑھی۔ چھوٹ کو ویسے ہی درج کیا جیسے ہوئی تھی۔ نیچے وہ جملہ لکھا جو اگلے موقعے پر کہے گا۔ اگلی شام لڑکے نے سگریٹ پیش کیا تو اس نے کہا: ”میں سگریٹ نہیں پیتا۔“ کمرے کے ساتھی سے کہا: ”میں ہر شام نئے سرے سے فیصلہ نہیں کروں گا۔“ کارڈ واپس بٹوے میں رکھ دیا۔
شام کو ابو کا فون آیا تو کریم نے بتایا کہ پڑھائی ٹھیک چل رہی ہے۔ کپ میں چمچ کی آواز سنائی دی۔ پھر ابو نے اس کی نیند کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: ”سو لیتا ہوں۔“
میرا پہلا اصول
اپنی لکیر کھینچنے سے پہلے ایک سوال: حال ہی میں آپ نے خود کو کون سی چھوٹ دے کر کہا تھا ”بس اس ایک بار“؟ اور کیا آپ نے یہ بات پہلی بار کہی تھی؟
پھر یہ جملہ پورا کریں اور وہاں لکھیں جہاں روز نظر آئے: ”میں … نہیں کرتا، تب بھی جب …“۔
اسی شام لینا نے ابو کے گھر کے سامنے گاڑی کا انجن بند کیا۔ گھڑی پر دن کے قدموں کی تعداد تھی، ساتھ والی نشست پر دوائی کا تھیلا۔ اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ چابی انگلیوں میں تھی، مگر وہ گاڑی سے نہیں اتری۔
حوالے (4)
- 1McGonigal, K. (2011). The Willpower Instinct: How Self-Control Works, Why It Matters, and What You Can Do to Get More of It. Avery.
- 2Ainslie, G. (2001). Breakdown of Will. Cambridge University Press.
- 3Vaughan, D. (1996). The Challenger Launch Decision: Risky Technology, Culture, and Deviance at NASA. University of Chicago Press.
- 4Patrick, V. M., & Hagtvedt, H. (2012). "I don't" versus "I can't": When empowered refusal motivates goal-directed behavior. Journal of Consumer Research, 39(2), 371–381.