”نابینا مدیر“ کے مصنف کی جانب سے
اپنے آپ سے استعفا
جو ہمیں نظر نہیں آتا، اس کی نفسیات
اپنی ہی زندگی سے غیر حاضر رہنا آپ کے لیے کب معمول بن گیا؟
محمود شعبان فسفوس
اپنی ہی زندگی سے غیر حاضر رہنا آپ کے لیے
کب معمول بن گیا؟
آپ دوسروں سے کیا ہوا وعدہ نبھاتے ہیں، اور خود سے کیے ہوئے وعدے کو ٹال دیتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے، پھر اسے ٹالنے کی کوئی ایسی وجہ ڈھونڈ لیتے ہیں جس سے خود کو قائل کر سکیں۔
محمود شعبان فسفوس ان چھوٹی چھوٹی چالوں کا سراغ لگاتے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی زندگی سے غیر حاضر ہو جاتے ہیں: ٹال مٹول اور جواز تراشی، دوسروں کی نظروں کا خوف، اور مصروفیت میں ان چیزوں سے غافل رہنا جو ہمارے لیے واقعی اہم ہیں۔
اس کتاب میں روزمرہ کے مناظر ہیں، نفسیات کے تصورات ہیں، اور نفسیات سے کہیں پرانے الفاظ بھی، جو اسی خیال پر ایک اور زاویے سے روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے ذریعے یہ کتاب ہمیں اپنے اندر وہ باتیں سمجھنے اور ان پر کام کرنے کا راستہ دکھاتی ہے جو ہماری نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔
پانچ حصے، انیس باب،
اور عملی تدبیریں جن کی ابتدا ایسے قدم سے ہوتی ہے جو آپ آج آزما سکتے ہیں۔
فہرستِ مضامین
- مقدمہآپ نے کتنی بار نئے سرے سے آغاز کیا؟
- حصہ اول · پانی پر لکھے وعدے
- باب اولپانچواں الارمآپ دوسروں سے کیے وعدے نبھاتے ہیں، مگر خود سے کیے وعدے کیوں توڑ دیتے ہیں؟
- باب دومقوتِ ارادی اس کہانی کا ہیرو نہیںعادتیں اپنانے والے کامیاب کیوں ہوتے ہیں، اور عزم پر بھروسا کرنے والے تھک کیوں جاتے ہیں؟
- باب سوم”بس اس ایک بار…“پہلا قدم آپ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں کیسے سرایت کر جاتا ہے؟
- باب چہارموہ کاپی جو ہم کبھی نہیں کھولتےہم اپنے سوا ہر چیز کا حساب کیوں رکھتے ہیں؟
- حصہ دوم · جب ہم خود کو نرمی سے دھوکا دیتے ہیں
- باب پنجممیرا دوست ”کل“ہم وہ کام کیوں ٹالتے ہیں جس کی اہمیت ہمیں معلوم ہے؟
- باب ششمآپ کے ذہن میں رہنے والا وکیلہم خود کو ہر بات پر کیسے قائل کر لیتے ہیں؟
- باب ہفتمسلاد کے بعد میٹھاہم اپنی نیکی کا انعام ایک چھوٹی سی غلطی سے کیوں دیتے ہیں؟
- باب ہشتممجھے ورثے میں ملی، میں نے چنی نہیںجن باتوں پر آپ یقین رکھتے ہیں، وہ آپ کی اپنی ہیں… یا آپ کے والد کی؟
- حصہ سوم · جو ہم کسی سے نہیں کہتے
- باب نہموہ آواز جو ہر رات آپ کو ڈانٹتی ہےخود پر سختی ہمیں بہتر کیوں نہیں بناتی؟
- باب دہموہ بات جو واپس نہیں لی جا سکتیناقابلِ تلافی نقصان سے پہلے آپ خود کو کیسے روکیں؟
- باب یازدہموہ مہمان جنہیں ہم نے بلایا نہیںآپ کے ذہن میں ایسے خوفناک خیال کیوں آتے ہیں جو آپ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے؟
- باب دوازدہم”اگر“… وہ لفظ جو آپ کی نیند چرا لیتا ہےجو آپ کے اختیار میں نہیں، اسے کیسے چھوڑیں؟
- حصہ چہارم · وہ چہرے جو ہم اوڑھتے ہیں
- باب سیزدہمکھڑکی اور اسٹیج کے درمیانموازنہ چور سے استاد کیسے بن سکتا ہے؟ اور آپ کی قیمت کتنے لائکس ہے؟
- باب چہاردہمبادشاہ لوئی سے بہتر حال میںجو ہمارے پاس ہے، وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتا؟
- باب پانزدہموہ استثنا جو آپ نے خود کو دیاآپ کی دلیل بدلنے سے کیا دوسرے کا حق بدل جاتا ہے؟
- باب شانزدہمجب وہ آسمان کے نام پر بولتا ہےاقتدار کے کچھ خواہش مند مذہب کا لبادہ کیوں ڈھونڈتے ہیں؟
- حصہ پنجم · نئے سرے سے
- باب ہفدہمروشنی کے تیس دن… پھر کیا؟رمضان کے بعد تبدیلی برقرار کیوں نہیں رہتی؟
- باب ہجدہمآدھے حاضراسکرینوں نے یہاں موجود رہنے کی ہماری صلاحیت کیسے چھین لی؟
- باب نوزدہماٹھیں… چاہے سوویں بار ہی کیوں نہ ہوٹھوکر کھانے کے بعد آپ کیسے واپس آئیں؟
- اختتامیہوہ الارم جو پانچ بار بجتا ہے
- ضمیمے