اپنے آپ سے استعفا
اس باب کو اسی طرح پڑھیں جیسے کتاب پڑھی جاتی ہے: پلٹتے صفحات، اور آپ کی جگہ محفوظ رہتی ہے۔اس باب کو کتاب میں کھولیں

باب ہجدہم

آدھے حاضر

اسکرینوں نے یہاں موجود رہنے کی ہماری صلاحیت کیسے چھین لی؟

پڑھنے کا وقت تقریباً 6 منٹ

گرمیوں میں کریم اپنے گھر واپس آیا۔ اس نے بیگ اپنے کمرے کے دروازے کے پاس رکھا، پھر کھانے پر اپنی پرانی جگہ بیٹھ گیا۔ اب اس کی بہن کرسی پر کھڑی ہوئے بغیر پلیٹ تک پہنچ جاتی تھی۔ اس نے کریم کا فون دیکھا تو اپنی کرسی ذرا قریب کر لی، اور اس کی پلیٹ کے پاس ایک تہہ کیا ہوا کاغذ رکھ دیا۔ کریم نے ٹیم کا پیغام کھولتے ہوئے اس سے پوچھا کہ اس کا دن کیسا گزرا۔

چچا نے لطیفہ سنایا تو سب ہنس پڑے۔ کریم بھی آدھے سیکنڈ بعد ان کے ساتھ ہنسا، مگر اس کی نظریں میز کے نیچے اسکرین پر تھیں۔ اس کے ابو نے ایک بار پلیٹ سے نظریں اٹھائیں، میز کے نیچے کریم کے ہاتھ کو دیکھا، پھر اپنی پلیٹ کی طرف دیکھنے لگے۔ بہن نے رنگوں کا ڈبہ اپنے کاغذ کے پاس رکھا، اور انتظار کرنے لگی کہ وہ دیکھے۔

امی نے پوچھا: ”کہاں کھو گئے؟“ اس نے سر اٹھا کر کہا: ”یہیں، یہیں۔“ انہوں نے روٹی آگے کرنے کو کہا تو اس نے سلاد کی پلیٹ بڑھا دی۔ بہن ہنس پڑی۔ کریم نے پلیٹ واپس رکھی، اور اس سے پوچھا کہ کاغذ پر کیا ہے۔ وہ ایک رنگ کے بارے میں بتانے لگی۔ کریم کے ہاتھ میں فون لرزا تو اس نے فون کو دیکھا۔ بہن کا جملہ بیچ میں ہی رک گیا۔

بہن نے کاغذ کھولا: میز کے گرد گھر والے تھے، اور نیلا لڑکا ایک چھوٹے سے مستطیل کو دیکھ رہا تھا۔ کریم نے کہا: ”اچھی ہے۔“ اس کی نظریں فون پر تھیں۔ بہن نے آہستہ سے کہا: ”تم نے اسے دیکھا ہی نہیں۔“ کمرے میں سب ہنسے، سوائے اس کے۔ اس نے فون اوندھا رکھا، اور کاغذ پھر اپنے سامنے کر لیا۔ ایک اطلاع آئی تو میز کی سطح لرزی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فون دوبارہ سیدھا کر لیا۔ اس نے رنگ کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی، مگر ٹیم کا ایک ادھورا جواب اس کے ذہن میں اٹکا رہا۔ اس نے فون ہاتھ سے جیب میں رکھ لیا۔ ایک منٹ بعد وہاں لرزا تو اس نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

آپ کسی اپنے کے ساتھ بیٹھے ہوں، وقت پر جواب بھی دیتے ہوں، پھر معلوم ہو کہ آخری جملہ تو آپ نے سنا ہی نہیں۔ جسم محفل میں ہے، اور توجہ اگلی لرزش کی منتظر۔ ذرا دیکھیں، بات میں کچھ دیر کا وقفہ آئے تو آپ کا ہاتھ کیا کرتا ہے: آپ سامنے والے کا انتظار کرتے ہیں، یا وہ چیز کھول لیتے ہیں جو آپ کو اس سے دور کر دے گی؟

مسلسل جزوی توجہ

لنڈا اسٹون ایک لکھاری ہیں۔ انہوں نے کئی برس بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کیا۔ انہوں نے ایک ایسی کیفیت کو نام دیا جس کا پہلے کوئی نام نہیں تھا: ”مسلسل جزوی توجہ“1۔

آدھا حاضر شخص سمجھتا ہے کہ وہ بات سن رہا ہے۔ سامنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سن ہی نہیں رہا۔ اپنے اندر یہی بات ہمیں نظر نہیں آتی: ہم اپنی موجودگی اس بات سے ناپتے ہیں کہ ہمارا جسم کہاں ہے، اور آس پاس کے لوگ اس بات سے کہ ہماری توجہ کہاں ہے۔

ہم اس لمحے سے پوری طرح غائب نہیں ہوتے، مگر پوری طرح حاضر بھی نہیں ہوتے۔ اس ڈر سے کہ کوئی چیز رہ نہ جائے، ہم اپنی توجہ کے ایک چھوٹے سے حصے سے ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں۔ یوں کسی چیز کو پوری توجہ نہیں دیتے۔

یکسوئی ایک چیز چنتی ہے اور جان بوجھ کر باقی چیزیں چھوڑ دیتی ہے۔ بٹی ہوئی توجہ ہر چیز پکڑتی ہے، تو ہر چیز تھوڑی تھوڑی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

فون کی اطلاعات نے ہمارے دماغوں کو کسی بھی لمحے خلل پڑنے کا منتظر رہنا سکھا دیا ہے۔ کوئی اطلاع نہ بھی آئے تو ہم کسی قدر چوکس رہتے ہیں، فوراً فون دیکھنے کو تیار۔

اس سے بھی گہرا ایک مسئلہ ہے، جس کی وضاحت محقق سوفی لوروا کرتی ہیں۔ جب آپ پہلا کام ختم کیے بغیر دوسرے کام پر چلے جاتے ہیں تو آپ کی توجہ کا ایک حصہ پہلے کام میں اٹکا رہتا ہے2۔ ان کے تجربات میں، ادھورا کام جلد چھوڑ دینے سے اگلے کام کی کارکردگی کمزور ہوئی۔ ایسا تب بھی ہوا جب دونوں کام سادہ تھے۔

تو کیا فون اوندھا رکھ دینا کافی ہے؟ دوسرے محقق اس سے آگے گئے۔ انہیں معلوم ہوا کہ فون کا قریب موجود ہونا، خاموش اور اوندھا پڑا ہونا بھی، ہماری دستیاب ذہنی صلاحیت کا کچھ حصہ کھپا سکتا ہے۔ اسے چھوئے بغیر بھی ایسا ہو سکتا ہے3۔ ان کے تجربے میں، فون دوسرے کمرے میں چھوڑنے والوں نے جانچے گئے کاموں میں ان لوگوں سے بہتر کارکردگی دکھائی جنہوں نے فون میز پر رکھا تھا۔ البتہ جنہوں نے فون جیب یا بیگ میں رکھا، ان کی کارکردگی کا دونوں میں سے کسی گروہ سے شماریاتی طور پر نمایاں فرق نہیں تھا۔

اس خاص نتیجے کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔ تجربہ دہرانے کی کوششوں کے نتائج مختلف رہے۔ 56 مطالعات اور 7093 شرکا کو جمع کرنے والے جائزے میں اثر توقع سے چھوٹا ملا، اس خیال کی تائید محدود تھی، اور بہت سے مطالعات کے طریقۂ تحقیق میں کمزوریاں تھیں4۔ آپ کی اپنی زندگی میں آزمانے کے قابل سوال یہ ہے: کیا فون خاموش کر دینا آپ کے لیے کافی ہے، یا اسے واقعی دور رکھنا ضروری ہے؟

محقق کیل نیوپورٹ اپنی کتاب Deep Work میں ایک چیز پر پوری یکسوئی سے کام کرنے کی صلاحیت کو ”گہرا کام“ کہتے ہیں5۔ ان کے خیال میں، جب خلل پڑنا استثنا کے بجائے عادت بن جائے تو یہ صلاحیت روز بروز کم ہوتی جاتی ہے۔

اسی طرح صحافی یوہان ہاری اپنی کتاب Stolen Focus میں ہماری اجتماعی توجہ چوری ہونے کے بارے میں شہادتیں اور تحقیق جمع کرتے ہیں6۔ خاص طور پر ہاری کی بعض باتوں پر علمی بحث جاری ہے۔ انہیں توجہ سے پڑھنا چاہیے، پوری طرح تسلیم کر لینا نہیں۔

﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے۔ جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں (المؤمنون: 1–2)7۔ خشوع دل اور جسم کے ساتھ اللہ کے آگے جھکنا ہے۔ اس میں ایسی حضوری ہے جو محض یکسوئی سے آگے جاتی ہے۔

دوسرا کمرہ

اپنے دن میں ایک چھوٹا سا وقفہ مقرر کریں:

کب استعمال کریں: جب جسم محفل میں ہو اور توجہ فون کے ساتھ۔ درکار وقت: تیاری کے پانچ منٹ، پھر ایک ہفتے تک روزانہ اپنی پسند کا ایک وقفہ۔

  1. پہلے روزانہ کا ایک چھوٹا سا وقفہ چنیں: رات کے کھانے کا آدھا گھنٹہ، یونیورسٹی کا راستہ، یا جاگنے کے بعد پہلے بیس منٹ۔
  2. فون کو واقعی ہاتھ کی پہنچ سے دور رکھیں: دوسرے کمرے میں یا بند بیگ میں۔ اسے اپنے سامنے میز پر اوندھا نہ رکھیں۔
  3. خالی لمحے کے لیے متبادل تیار رکھیں، جسے عموماً فون بھر دیتا ہے: چھوٹی سی کتاب، کاپی، گھر کے کسی بچے کے ساتھ کھیل، یا کچھ دیر کھڑکی سے باہر دیکھنا ہی سہی۔
  4. آس پاس کے لوگوں کو تجربے کے بارے میں بتائیں: ”اگلے ایک گھنٹے میرا فون دوسرے کمرے میں رہے گا۔“ یہ جملہ انہیں نگرانی کرنے والوں سے گواہ بنا دیتا ہے۔
  5. روزانہ کا فرق ایک جملے میں لکھیں، لمبا تجزیہ نہیں: آج آپ نے اپنی توجہ اور موجودگی کے بارے میں کیا محسوس کیا؟

اگر آپ کسی بچے یا مریض کے ذمہ دار ہیں، یا ایسی کال کے منتظر ہیں جسے ٹالا نہیں جا سکتا، تو کوئی دوسرا آدھا گھنٹہ چنیں، یا صرف ایک نمبر سے کال آنے پر گھنٹی بجنے دیں۔ ضروری رابطہ روکے بغیر معمول کے خلل کم کریں۔

اگر گر جائیں: اگلے وقفے میں فون پھر اپنی جگہ رکھ دیں۔ دو بار وقفہ چھوٹ جانے سے پورے ہفتے کی کوشش رائیگاں نہیں جاتی۔

رات کے کھانے سے پہلے کریم فون اپنے کمرے میں لے گیا۔ امی سے کہا: ”آدھا گھنٹہ یہیں رہے گا۔“ انہوں نے اپنا فون بھی اس کے پاس رکھ دیا۔ پہلی رات وہ چار بار اٹھ کر کمرے کے دروازے تک گیا۔ چوتھی بار اندر جا کر وہ پیغام پڑھ لیا جس کا انتظار تھا، پھر فون ساتھ لے کر بیٹھک میں آ گیا۔ اسے تب خیال آیا جب بہن نے اپنا کاغذ اٹھایا۔ اس نے فون واپس رکھا، اور آج کی سطر میں لکھا: ایک بار فون دیکھنے اندر گیا۔ اگلے دن خالی وقت سے بے چین ہوا تو انگریزی کی وہ کتاب کھولی جسے صفحہ چالیس پر چھوڑ دیا تھا۔ ایک باب بھی پورا نہیں پڑھا۔ ایک صفحہ پڑھا، اور بہن نے بات شروع کی تو بند کر دی۔ چھٹی رات امی نے کہا: ”ان دنوں لگتا ہے تم ہمارے ساتھ ہو۔“ پہلے ہفتے کی آخری رات نئی تصویر آئی: وہی میز، مگر مستطیل کے بغیر۔ اس نے بہن سے ہر رنگ کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: ”یہ تم ہو، بڑے ہو گئے ہو۔“ دوسرے ہفتے فون دو بار میز پر واپس آیا، اور ہر بار اگلی رات کے کھانے پر اس نے اسے کمرے میں رکھا۔ اس نے کہا: ”سننے کے لیے مجھے اسے دور رکھنا پڑتا ہے۔“

ابھی ایک چھوٹا سا قدم: دیکھیں، اس وقت آپ کا فون کہاں ہے؟ ہاتھ میں یا بالکل نظروں کے سامنے ہے تو اسے ایسی جگہ رکھ دیں جہاں پہنچنے کے لیے آپ کو اٹھنا پڑے۔ چاہے صرف پانچ منٹ کے لیے۔

آپ پوری طرح حاضر رہ چکے ہیں

جب آپ نے روتے ہوئے دوست کی بات سنی، اور اس کی بات ختم ہونے سے پہلے اپنے جواب کے بارے میں نہیں سوچا، تو آپ پوری طرح حاضر تھے۔ اسی صلاحیت کو واپس لانا ہے۔

دوسرے کمرے سے واپسی کے بعد

فون دوسرے کمرے میں چھوڑ دیں، اور لکھیں: دن کے کس لمحے آپ کا ہاتھ خود بخود اس کی طرف بڑھتا ہے، اس کے بجنے سے بھی پہلے؟

گھر میں اس کی آخری رات، بہن نے اس کی نظر بچا کر ایک نئی تصویر بیگ کی اگلی جیب میں رکھ دی۔ اس بار اس نے نیچے کچھ نہیں لکھا تھا۔

حوالے (7)
  1. 1Stone, L. (2009, November 30). Beyond simple multi-tasking: Continuous partial attention. lindastone.net. https://lindastone.net/2009/11/30/beyond-simple-multi-tasking-continuous-partial-attention/
  2. 2Leroy, S. (2009). Why is it so hard to do my work? The challenge of attention residue when switching between work tasks. Organizational Behavior and Human Decision Processes, 109(2), 168–181.
  3. 3Ward, A. F., Duke, K., Gneezy, A., & Bos, M. W. (2017). Brain drain: The mere presence of one's own smartphone reduces available cognitive capacity. Journal of the Association for Consumer Research, 2(2), 140–154.
  4. 4Parry, D. A. (2024). Does the mere presence of a smartphone impact cognitive performance? A meta-analysis of the “brain drain effect”. Media Psychology, 27(5), 737–762.
  5. 5Newport, C. (2016). Deep Work: Rules for Focused Success in a Distracted World. Grand Central Publishing.
  6. 6Hari, J. (2022). Stolen Focus: Why You Can't Pay Attention—and How to Think Deeply Again. Crown.
  7. 7قرآن مجید، المؤمنون: 1–2. https://quran.com/23/1-2