حصہ پنجم
نئے سرے سے
باب ہفدہم
روشنی کے تیس دن… پھر کیا؟
رمضان کے بعد تبدیلی برقرار کیوں نہیں رہتی؟
لینا کے فون میں اپنی آواز کی ایک سال پرانی ریکارڈنگ تھی، جسے اس نے ایک بار بھی نہیں سنا تھا۔ عید کی رات اس نے وہ الارم بند کر دیا جس نے مسلسل تیس راتیں اسے فجر کے لیے جگایا تھا۔ فون میز پر رکھا اور شوہر سے کہا: ”کل مجھے مت جگانا۔“
عید کے دوسرے دن اس کی آنکھ گیارہ بجے کھلی۔ اٹھنے سے پہلے اس نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ خاندان سے ملاقات کی اپنی تصویر دیکھی، پھر ایک اور تصویر۔ پھر دو گھنٹے گزر گئے۔ شوہر ایک چھوٹی پلیٹ لے کر آیا اور کہا: ”یہ تمہارا ناشتہ تھا۔“ اس نے فون ایک طرف رکھ دیا۔ روٹی سوکھ چکی تھی۔
پورا مہینہ وہ فجر پڑھتی رہی تھی، ہر رات دس صفحے پڑھتی تھی اور ہر شام ابو کو فون کرتی تھی۔ اب کتاب تین دن سے اسی صفحے پر تھی۔ الارم دوبارہ لگانے کو فون اٹھایا تو نظر ریکارڈنگ کے نام پر پڑی: ”نئی لینا“۔ اس کے نیچے اسی نام کی ایک اور فائل تھی، اس سے ایک سال پرانی۔ اس کی انگلی پلے کے بٹن پر سے گزری مگر اس نے بٹن دبایا نہیں۔ اس نے ریکارڈنگز کی فہرست بند کر دی اور الارم بھول گئی۔
شاید آپ بھی اس خلا سے واقف ہوں جو ایسا موسم گزر جانے کے بعد آتا ہے جس نے آپ کو سنبھال رکھا تھا۔ پڑھنے کا ایک وقت تھا، ساتھ اٹھنے والے لوگ تھے۔ پھر وہی وقت آیا تو آپ اکیلے تھے۔ پورے مہینے کے خلوص پر فیصلہ سنانا ضروری نہیں۔ اس کے بعد کے پہلے دن کو دیکھیں: یہ کہنے سے پہلے کہ آپ بدل گئے ہیں، دیکھیے آپ کے آس پاس سے کیا غائب ہوا تھا؟
تین تحفے جو ایک ساتھ غائب ہو جاتے ہیں
رمضان آپ کو تین مفت تحفے دیتا ہے۔
پہلا تحفہ ایک ایسا وقت ہے جسے سب جانتے ہیں: فجر، افطار اور تراویح۔ آپ طے نہیں کرتے کہ کب شروع کرنا ہے۔ وقت آپ کی طرف سے طے کرتا ہے۔
دوسرا تحفہ ایسا ماحول ہے جو آپ کو اسی سمت آگے بڑھاتا ہے، جہاں آپ رہتے ہیں وہاں جتنا ممکن ہو۔ تراویح کے بعد پرسکون ہو جانے والا گھر، یا ایسا محلہ جس کا دن افطار کے وقت کے گرد گھومتا ہے۔ جو وہاں رہتا ہے جہاں سڑک پر رمضان کا پتا ہی نہیں چلتا، وہ جانتا ہے کہ اس تحفے کے بغیر مہینہ کتنا بھاری ہو جاتا ہے۔
تیسرا تحفہ ایسے ساتھی ہیں جو آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہیں۔ سحری کے لیے جاگنے والے گھر والے، یا روزے دار دوست جنہیں دوپہر کے کھانے کی دعوت سے آپ کا انکار عجیب نہیں لگتا۔ اکیلے رہنے والا جانتا ہے کہ یہ تحفہ خود نہیں ملتا، اسے بنانا پڑتا ہے۔ سحری سے پہلے ایک فون، یا پوچھنے والا دوست۔
اگر یہ تینوں تحفے مانوس لگتے ہیں تو اس لیے کہ یہ وہی تین شرطیں ہیں جو ہم نے باب 1 میں دیکھی تھیں، رمضان کے ناموں سے: آپ کی طرف سے فیصلہ کرنے والا مقررہ وقت، آپ کو آگے بڑھانے والی جگہ، اور آپ کو دیکھنے والے ساتھی۔
کچھ لوگ صرف رمضان میں نماز پڑھتے ہیں، پھر اس کے بعد سنتے ہیں: تم دکھاوا کر رہے تھے۔ مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ پورا مہینہ خود سے جھوٹ بول رہے تھے۔ ممکن ہے تینوں تحفے ایک ساتھ ان سے دور ہو گئے ہوں۔ ان کی نیت پر فیصلہ سنانے سے پہلے اس بات کو پرکھنا چاہیے۔
نفسیات اس اچانک بکھرنے کو کیسے سمجھاتی ہے؟ محقق وینڈی وُڈ بتاتی ہیں کہ عادت صرف قوتِ ارادی کے سہارے قائم نہیں رہتی۔ وہ اپنے آس پاس کے مستقل اشاروں سے جڑی ہوتی ہے: جگہ، وقت اور مانوس چہرے1۔ جب یہ اشارے ایک ساتھ بدلتے ہیں تو رویہ اس ڈور سے محروم ہو جاتا ہے جو اسے تھامے ہوئے تھی، چاہے اسے جاری رکھنے کی خواہش بالکل سچی ہو۔
ماحول غائب ہو جائے تو رویے کا سہارا کھو جاتا ہے۔ اس سلسلے کے ٹوٹنے کی دوسری وجوہ بھی ہیں جو لینا سے متعلق ہیں۔ عید کے بعد اس کے اپنے فیصلے بھی ان میں شامل ہیں۔ مگر صرف خود کو الزام دینا آس پاس سے غائب ہونے والی چیزوں کو چھپا دیتا ہے۔
جوش کے بعد کیا باقی رہتا ہے
حنظلہ نے ابو بکر سے کہا کہ جب وہ نبی ﷺ کی مجلس سے اپنے گھر والوں، بچوں اور روزگار کی طرف لوٹتے ہیں تو ان کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ نصیحت کی مجلس میں آخرت کی باتیں اس طرح ذہن میں حاضر ہوتی تھیں کہ باہر وہی درجۂ احساس باقی نہ رہتا۔ انہوں نے اس فرق کو نفاق کہا۔ ابو بکر نے جواب دیا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔ پھر دونوں نبی ﷺ کے پاس گئے اور حنظلہ نے اپنی کیفیت بیان کی۔ جواب آیا کہ اس کیفیت کے مسلسل رہنے کی بات اور ہے، اور زندگی میں کچھ وقت اِس کے لیے ہے، کچھ اُس کے لیے۔
حنظلہ نے صرف اپنے اوپر حکم نہیں لگایا۔ بتایا کہ ان کی کیفیت کہاں بدلتی ہے، پھر سوال کیا۔ ابو بکر نے اپنے تجربے کو ایسا پیمانہ نہیں بنایا جس پر سوال کرنے والے کو کمتر ٹھہرائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔
آپ کے اپنے وعدے میں یہ فرق کام آتا ہے۔ احساس کی شدت کم ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ نے جو کیا وہ دکھاوا تھا۔ جوش کم ہونے پر بھی آپ ایک چھوٹا سا عمل جاری رکھ سکتے ہیں، اور اس کا وقت اور سہارا درست کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب باری باری وعدہ نبھانا اور توڑنا نہیں۔ حدیث ذکر اور زندگی کے کاموں کے ساتھ کیفیت بدلنے کے بارے میں ہے، اپنی ذمہ داری سے پھرنے کی اجازت نہیں۔
جواب کے آخر میں ہے: ”لیکن اے حنظلہ، کچھ وقت اِس کے لیے اور کچھ وقت اُس کے لیے۔“2۔
وقت کے سنگِ میل
محقق کیٹی ملک مین اپنی کتاب How to Change میں ایک خیال سمجھاتی ہیں، جس کی ابتدائی تحقیق میں انہوں نے حصہ لیا تھا3۔ ہم ان لمحوں میں نئی عادت شروع کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں جب ہمیں لگتا ہے کہ ایک پرانا صفحہ بند کر کے نیا کھول رہے ہیں۔ جیسے مہینے کا پہلا دن، سالگرہ، یا سفر سے واپسی۔ یہ لمحے ہمیں اپنے پرانے روپ سے الگ کرتے ہیں۔ چاہے ایک لمحے کے لیے ہی، نئے سرے سے آغاز ممکن ہو جاتا ہے۔
ایک تحقیق میں، جس میں ان کے ساتھ دو ساتھی شامل تھے، محققین نے ہزاروں لوگوں کے رویے کا جائزہ لیا4۔ انہوں نے دیکھا کہ انٹرنیٹ پر لفظ ”ڈائٹ“ کتنی بار تلاش کیا گیا۔ یونیورسٹی کے جم میں آنے جانے کا جائزہ لیا، اور ذاتی اہداف پورے کرنے کی پابندی کے لیے آن لائن کیے گئے معاہدے بھی دیکھے۔ تینوں میں ایک ہی رجحان سامنے آیا۔ ہر ہفتے، ہر مہینے اور ہر سال کے آغاز پر واضح اضافہ بار بار دکھائی دیا، پھر دنوں کے ساتھ بتدریج کم ہو گیا۔
وہ ریکارڈنگ جو کھولی نہیں گئی
اسے ستائیسویں رات یاد آئی۔ اس دن اس نے ”نئی لینا“ کے نام سے پیغام ریکارڈ کیا تھا: فجر، پڑھنا، ابو کو فون کرنا اور رات کے کھانے کے بعد فون چھوڑ دینا۔ اب اس نے نئے کاغذ پر زیادہ لمبی فہرست لکھی اور فریج پر لگا دی۔ شوہر گزرا، پہلے نکتے اور پھر آخری کو پڑھا: ”یہ سب کل؟“ اس نے کہا: ”کمی پوری کروں گی۔“
ایک اور وعدہ بڑھانے کو وہ ریکارڈنگ کی طرف لوٹی۔ پچھلے رمضان کا پیغام ویسا ہی ملا جیسا چھوڑا تھا۔ اسے یاد آیا کہ وہ اسے سننا اگلے رمضان تک ٹالتی رہی تھی۔ پھر فریج کا کاغذ دوبارہ پڑھا۔ کسی نکتے میں وقت طے نہیں تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اگر پڑھنا رہ جائے تو کس کو بتائے گی۔
ساری امید سال کے ایک ہی سنگِ میل سے جوڑنے کے بجائے چھوٹے سنگِ میل بنائیں:
کب استعمال کریں: جب وہ موسم ختم ہو جائے جو آپ کی عادت کو سنبھالے ہوئے تھا، یا جب آپ لوٹنے کے لیے نئے موسم کا انتظار کر رہے ہوں۔ درکار وقت: تیاری کے لیے دس منٹ، پھر آزمانے کے لیے ایک ہفتہ۔ اگلے تین دنوں کے اندر کا سنگِ میل چنیں، اور پہلے عمل کا وقت ابھی اپنے کیلنڈر میں درج کریں۔
- قریب کا سنگِ میل چنیں، اگلا رمضان نہیں: عیسوی مہینے کا پہلا دن، بہن کی سالگرہ، یا کسی دوست کی سفر سے واپسی۔
- اس سنگِ میل کے ساتھ کم از کم ایک تحفے کا انتظام کریں: روزانہ کا مستقل وقت، گھر میں نئی عادت کے لیے تیار کیا ہوا گوشہ، یا ایسا دوست جو آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے۔
- تسلسل کو ”اگر… تو…“ کے منصوبے سے جوڑیں: ”اگر پہلا ہفتہ پورا ہو جائے، تو اپنی بہن کو فون کر کے بتاؤں گا کہ کیا کیا ہے۔“ ہوا میں معلق، غیر متعین وعدہ نہیں۔
- بے عیب آغاز کا انتظار نہ کریں: جس دن کو آپ نے چنا ہے، اسی دن عادت کی سب سے چھوٹی صورت سے آغاز کریں، اگلے ہفتے نہیں۔
آغاز کے لیے تینوں تحفے ایک ساتھ درکار نہیں۔ مستقل وقت سے شروع کریں، یا پوچھنے والے دوست سے، پھر اسی بنیاد پر آگے بڑھیں۔
اگر گر جائیں: پہچانیں کہ مقررہ وقت، جگہ یا ساتھیوں میں سے کیا غائب ہوا، اور اگلے موقعے پر سب سے چھوٹا عمل دوبارہ کریں۔
اگلے عیسوی مہینے کے پہلے دن، فریج پر کاغذ لگانے کے دو دن بعد، لینا نے ایک تحفہ چنا۔ اس کی سہیلی ہر منگل اس سے اس کے دس صفحوں کے بارے میں پوچھے گی۔ نئی فہرست بنانے سے پہلے اس نے مقررہ وقت بھیج دیا۔ اس شام دو صفحے پڑھے۔ پہلے منگل سہیلی نے پوچھا: ”کہاں تک پہنچیں؟“ لینا لمبا جواب لکھنے کے بجائے کتاب لے کر بیٹھ گئی، پھر صفحے کا نمبر بھیج دیا۔ چوتھے ہفتے سفر پر گئی۔ سوال اس وقت آیا جب وہ ایک اور کمرے میں بیگ کھول رہی تھی۔ اسے جواب دیے بغیر چھوڑ دیا۔ واپس آئی تو کتاب کو اگلے مہینے کے پہلے دن تک ٹالنے ہی والی تھی۔ اس نے پہچانا کہ کیا غائب ہوا تھا: پڑھنے کی جگہ، اس کی پوری خواہش نہیں۔ واپسی کے بعد پہلے منگل کو دو صفحے پڑھے، پھر جواب دیا: ”آج بس یہ دو۔“ سہیلی نے کہا: ”تو پھر اگلے منگل کا پوچھوں گی۔“
وہ ابو کو بھی دوبارہ فون کرنے لگی، اگرچہ ہر شام نہیں۔ اس نے پرانی ریکارڈنگ آخر تک سنی۔ ہنس پڑی جب اس کی آواز نے صبح سے رات تک دس عادتوں کا وعدہ کیا۔ شوہر سے کہا: ”مجھے کوئی ایسا چاہیے جو جوش ٹھنڈا پڑنے کے بعد بھی پوچھے۔“ اس نے رات کے کھانے کے بعد کا وقت کتاب کے لیے رکھ دیا، اور ایک چھوٹے کاغذ پر ہر شام بیس منٹ ڈیزائن کرنے کا منصوبہ لکھا۔ گواہ کے خانے میں اس بار لکھا: ابو۔
عید کے بعد
ابھی پانچ منٹ نکالیں۔ ایک ایسی عادت کا نام لکھیں جسے مہینے میں قائم رکھا اور پھر چھوڑ دیا۔ اس کے پاس لکھیں کہ کون سا مقررہ وقت، جگہ یا ساتھی اسے سہارا دے رہے تھے۔ جو سب سے پہلے غائب ہوا، اس پر دائرہ لگائیں۔ اس عادت کی سب سے چھوٹی صورت چنیں جسے دوبارہ کریں گے، اور اگلے تین دنوں کے اندر اس کا وقت طے کریں۔ پھر آج ہی اپنے گواہ کو ایک جملہ بھیجیں، جس میں وہ وقت اور عمل ہو جس کے بارے میں وہ ایک ہفتے بعد پوچھے گا۔
لینا نے ابو کو فون کر کے سب کچھ بتا دیا: کورس، انٹرویو اور نئی نوکری۔ وہ دیر تک خاموش رہے، یہاں تک کہ اسے لگا فون کٹ گیا ہے۔ پھر کہا: ”سنیچر کو آنا۔“
حوالے (4)
- 1Wood, W., & Neal, D. T. (2007). A new look at habits and the habit-goal interface. Psychological Review, 114(4), 843–863.
- 2مسلم، صحیح مسلم، توبہ کی کتاب، حدیث 2750a (حنظلہ)۔ https://sunnah.com/muslim:2750a
- 3Milkman, K. L. (2021). How to Change: The Science of Getting from Where You Are to Where You Want to Be. Portfolio/Penguin.
- 4Dai, H., Milkman, K. L., & Riis, J. (2014). The fresh start effect: Temporal landmarks motivate aspirational behavior. Management Science, 60(10), 2563–2582.