اپنے آپ سے استعفا
اس باب کو اسی طرح پڑھیں جیسے کتاب پڑھی جاتی ہے: پلٹتے صفحات، اور آپ کی جگہ محفوظ رہتی ہے۔اس باب کو کتاب میں کھولیں

حصہ اول

پانی پر لکھے وعدے

ہم سب نے پانی پر وعدے لکھے ہیں: جلدی سوؤں گا، فون چھوڑ دوں گا، مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع کروں گا۔ پھر ایک مصروف دن آتا ہے اور وہ گھل جاتے ہیں۔ اس حصے میں ہم وعدے کے لیے ایک گواہ، ایک جگہ اور ایک وقت طے کریں گے۔ ایک چھوٹی سی عادت بنائیں گے اور اسے ”بس اس ایک بار“ سے بچائیں گے۔ پھر ریکارڈ کھول کر دیکھیں گے کہ ہم نے واقعی کیا کیا۔

باب اول

پانچواں الارم

آپ دوسروں سے کیے وعدے نبھاتے ہیں، مگر خود سے کیے وعدے کیوں توڑ دیتے ہیں؟

پڑھنے کا وقت تقریباً 8 منٹ

کریم اٹھارہ سال کا ہے۔ بڑا بیٹا، جو بات پوری ہونے سے پہلے ہی ”جی“ کہہ دیتا ہے۔ قد میں اپنے ابو سے دو سینٹی میٹر آگے نکل چکا ہے، مگر ان سے بات کرتے ہوئے اب بھی آواز دھیمی کر لیتا ہے۔

کریم کے ارادے اس کے ظاہر سے کہیں بڑے ہیں۔ وہ اپنا ایک بہتر روپ بننا چاہتا ہے: جسم میں زیادہ طاقت، مطالعے میں زیادہ وسعت، اور انگریزی بولنے میں زیادہ اعتماد۔ ہر سال کے شروع میں اپنی فہرست لکھتا ہے اور دل سے پُرجوش ہو کر آغاز کرتا ہے۔ پھر چند دنوں میں، یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں، ان ارادوں پر عمل کی کوششیں خاموشی سے دم توڑ دیتی ہیں۔ کسی کو بتاتا نہیں۔ مگر جب بھی پچھلے سال کی فہرست پر نظر پڑتی ہے، ہلکی سی شرمندگی اور اب مانوس ہو چکی مایوسی محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیے ساری گرمیوں میں یونیورسٹی کے ہاسٹل کا انتظار کرتا رہا: ایک نئی جگہ، جہاں کسی کو معلوم نہ ہو کہ وہ کتنی بار آغاز کر چکا ہے۔

گرمیوں کے آخر میں، دروازے پر، امی نے کھانے کا ڈبا تین تھیلیوں میں لپیٹ دیا تھا تاکہ کچھ رس نہ جائے۔ ابو نے اس کے کندھے پر بیگ کا پٹا درست کیا اور کہا: ”وقت مت گنوانا۔“ پھر جیب سے ایک بند سفید لفافہ نکالا۔ ہلکا سا، خرچ کے پیسوں والے لفافے جیسا نہیں۔ بیٹے کی انگلیاں اس پر بند کرتے ہوئے کہا: ”ضرورت پر کھولنا۔“

کریم پوچھنا چاہتا تھا: اس میں کیا ہے؟ مگر اپنے منہ سے ”جی“ نکلتے سنا۔

ابو نے چھ لفظ کہے تھے۔ کریم نے بس میں انہیں دو بار گنا۔

ہاسٹل کی پہلی رات بیگ کی جیب میں ایک تصویر ملی جو اس کی چھوٹی بہن نے چپکے سے رکھ دی تھی۔ اس کے سوا کوئی صبر سے بہن کی کہانیاں نہیں سنتا تھا۔ ایک گھر، ایک سورج اور ہاتھ ہلاتا ہوا ایک نیلا لڑکا۔ نیچے ٹیڑھی میڑھی لکھائی میں: ”جلدی واپس آنا“۔ تصویر چراغ کے سہارے رکھ دی، جہاں نظر آتی رہے۔ لفافہ دراز میں پھینک دیا، جہاں نظر نہ آئے۔

پھر وہ گیم کھولی جس کے لیے گھر میں رات گئے آدھا گھنٹہ چرا لیا کرتا تھا۔ انٹرنیٹ پر ایک چھوٹی سی ٹیم۔ کھلاڑی مختلف شہروں کے تھے۔ اس کا چہرہ نہیں جانتے تھے، مگر اس کے بغیر راؤنڈ شروع نہیں ہوتا تھا۔ خود سے وعدہ کیا: بس ایک راؤنڈ۔

بات ایک راؤنڈ پر ختم نہیں ہوئی۔ اگلی راتوں میں اپنے کمرے کے ساتھی کے سونے کے بعد گیم کھولنے لگا۔ کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ کب بند کرے گا۔ ایک راؤنڈ کے بعد دوسرا، یہاں تک کہ کھڑکی سے روشنی اندر آتی دکھائی دیتی۔ اب جو ذہن میں آتا، فوراً لکھ دیتا۔ ایک کھلاڑی نے کوئی چال غلط چلی تو اسے ایک تکلیف دینے والا جملہ لکھ کر بھیج دیا۔ نہ اس کا نام جانتا تھا، نہ پڑھتے ہوئے اس کے چہرے کا تصور کیا۔

اگلی رات ایک ایسی ٹیم میں شامل ہوا جس کے کچھ کھلاڑی اس کا اصلی نام جانتے تھے۔ ٹیم پچھلے جیسا ایک راؤنڈ ہار گئی۔ وہی جملہ لکھا، پھر آدھا مٹا دیا۔ ٹیم کے ساتھی کا پیغام آیا: ”کیا لکھا تھا؟“ اس نے کرسر کو جھپکتے رہنے دیا۔

تین ہفتے اسی طرح گزرے۔ کریم صبح تک گیم کھیلتا رہتا۔ چند گھنٹوں بعد فون پر دو الارم بجتے۔ پہلے کا نام ”آٹھ بجے کا لیکچر“ تھا۔ اس پر فوراً اٹھ جاتا۔ پڑھائی شروع ہونے سے اب تک ایک بار بھی اس لیکچر سے غیر حاضر نہیں ہوا تھا۔ استاد نام لے کر حاضری لگاتے تھے، اور کریم ان سے دس منٹ پہلے پہنچ جاتا تھا۔ دوسرے کا نام ”دوڑ“ تھا۔ دو سال پہلے لگایا تھا، مگر اس کی پکار پر صرف دو ہفتے اٹھا۔ ہر صبح آنکھیں کھولے بغیر انگوٹھے سے خاموش کر دیتا۔ کمرے کا ساتھی سنتا، مگر کچھ نہیں کہتا۔

لیکچر کو جاتے ہوئے فون پر ”اس سال“ کی فہرست کھولی: دوڑ، ہر مہینے ایک کتاب، اور انگریزی۔ پھر نیچے لکھ دیا: ”امتحانوں کے بعد“۔ فون دونوں وقت یاد رکھتا ہے۔ کریم صرف ایک۔

ہم سب کا کوئی ایسا الارم ہے جسے ہم انگوٹھے سے خاموش کر دیتے ہیں۔

پونے پانچ بجے ہیں۔ الارم بجتا ہے۔

آپ آنکھیں کھولے بغیر ہاتھ بڑھاتے ہیں اور بٹن دباتے ہیں: ”اسنوز“۔

بس پانچ منٹ۔

دوبارہ بجتا ہے۔ اسنوز۔ تیسری بار۔ چوتھی بار۔

پانچویں بار اٹھتے ہیں تو وہ وقت نکل چکا ہوتا ہے جس کے لیے الارم لگایا تھا۔ بھیڑ بڑھنے سے پہلے دوڑنا، پڑھائی کا ایک گھنٹہ، یا کل خود سے کیا ہوا کوئی وعدہ۔

اب یہی منظر دوبارہ دیکھیں، صرف ایک تبدیلی کے ساتھ: اس بار کوئی آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ آٹھ بجے امتحان ہے، یا دوست گاڑی لیے دروازے پر کھڑا ہے۔

کتنی بار ”اسنوز“ دبائیں گے؟

ایک بار بھی نہیں۔

الارم وہی ہے۔ بستر وہی۔ تھکن وہی۔ تو بدلا کیا؟

جواب دینے سے پہلے کل کی رات یاد کریں۔ آپ نے جاگتے ہوئے اگلے دن کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایک گھنٹہ پڑھائی، آدھا گھنٹہ چہل قدمی، پھر وہ کام جسے جمع کرانے میں پہلے ہی دیر ہو چکی تھی۔ آپ نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ صبح پہلے طے شدہ وقت کی پابندی نہیں کی اور باقی سب کو شام تک آگے دھکیلتے گئے۔ اب فائل دیر سے کھولتے ہیں، جس کام کو توجہ چاہیے تھی اسے جلدی میں سمیٹتے ہیں، اور انتظار کرنے والے سے معذرت کرتے ہیں۔ ٹالنے سے تھکن غائب نہیں ہوئی۔ اس کے ساتھ جلد بازی، شرمندگی اور اپنی صلاحیت سے کم درجے کا کام بھی جڑ گیا۔ کل پھر یہی منظر دہرایا جا سکتا ہے، اگر آج رات صرف زیادہ جوش سے وعدہ کر لیں اور صبح کا بندوبست ویسا ہی چھوڑ دیں۔

ہر ٹوٹا ہوا وعدہ آپ کو سکھاتا ہے کہ اگلے وعدے پر آسانی سے یقین نہ کریں۔ آپ کہتے ہیں: اس بار بات الگ ہے۔ مگر الگ تیاری کچھ نہیں کرتے۔ فون پاس رہتا ہے، جوتے الماری میں، اور وعدے کا کوئی وقت طے نہیں ہوتا۔ پھر حیران ہوتے ہیں کہ دوست سے وعدہ نبھا لیتے ہیں مگر خود کو انتظار میں چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی تسلی بخش وجہ ڈھونڈنے سے پہلے یہ بات صاف دیکھیں: آپ ہی نہیں پہنچے تھے، اور اس طے شدہ وقت پر نہ پہنچنے کا نقصان بھی آپ ہی کو ہوا۔ مان لینے سے بات درست نہیں ہو جاتی، مگر آپ اس کی قیمت کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اب دونوں وعدوں کو ساتھ رکھیں۔ دوست سے کیے وعدے کے لیے کیا انتظام تھا جو خود سے کیے وعدے کے لیے آپ نے نہیں کیا؟

آپ کی قوتِ ارادی نہیں بدلی۔ اسے سہارا دینے والی شرطیں بدلی ہیں۔

وعدہ نبھانے کا آپ کا ارادہ موجود ہے۔ باہر کی کچھ چیزیں اسے سہارا دیتی ہیں: ایک شخص جو آپ کے وعدے کو جانتا ہے، ایک جگہ جو آپ کو اسے نبھانے کے لیے تیار کرتی ہے، اور ایک طے شدہ وقت۔

پہلی شرط: کوئی آپ کو دیکھ رہا ہو

ایک چھوٹا سا اعتراف جو شاید آپ کو ناگوار گزرے: ہمارے نظم و ضبط کا بڑا حصہ ہمارا اپنا نہیں۔ ہم اسے مستعار لیتے ہیں۔

حاضری لگانے والے استاد سے، گاڑی میں منتظر دوست سے، اور دیر سے پہنچنے پر لوگوں کی نظروں سے۔

یہ ایک بیرونی نگران ہے۔ اس کی طاقت تین باتوں میں ہے:

خود سے کیے وعدے کی قیمت بعد میں چکانی ہوتی ہے۔ کوئی اسے دیکھتا نہیں، اور سودے بازی کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے: ”کل سے“۔

اسی لیے خود سے کیے وعدے خاموشی سے مر جاتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ہم جھوٹے ہیں۔ اس لیے کہ وہ کسی گواہ کے بغیر پیدا ہوئے تھے۔ یا ہم یہی سمجھتے ہیں۔

کریم بچپن سے ابو کے اصولوں اور امی کے طے کیے وقت پر بغیر بحث چلتا آیا ہے۔ ”جی“ کہتا ہے، پھر کر دیتا ہے۔ یونیورسٹی میں بھی جس لیکچر میں نام پکارا جائے، اس سے غیر حاضر نہیں ہوتا۔ مگر خود سے جو وعدہ کرتا ہے، اس کے بارے میں کوئی نہیں پوچھتا۔

کریم کوئی انوکھی مثال نہیں۔ مصنفہ گریچن روبن اپنی کتاب The Four Tendencies میں ایسے لوگوں کو ”دوسروں کے لیے پابند رہنے والے“ کہتی ہیں۔ لوگ ان سے جو توقع رکھتے ہیں، اسے آسانی سے پورا کرتے ہیں۔ خود سے جو توقع رکھتے ہیں، اس میں ٹھوکر کھاتے ہیں1۔

انہوں نے امریکیوں کے ایک منتخب گروہ کا سروے کیا تو ایسے لوگ سب سے زیادہ نکلے: 41%۔ ان کی یہ تقسیم عام قارئین کے لیے ایک سادہ خاکہ ہے، کوئی ثابت شدہ نظریہ نہیں۔ مگر ہم میں کون ہے جسے اس بیان میں اپنا آپ نظر نہیں آیا؟

ماہرینِ نفسیات اس مستعار نظم و ضبط کو ”بیرونی نظم“ کہتے ہیں: ہم پابندی کرتے ہیں کیونکہ کوئی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جس چیز کی کمی ہے، اسے ”اندرونی نظم“ کہتے ہیں: ہم پابندی کرتے ہیں کیونکہ وہ کام ہمارا حصہ بن گیا ہے۔ اس لیے کہ ہم اس کام کی قدر مانتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اندر سے ملامت کا ڈر ہے2۔ کوئی اصول آپ کا اپنا اصول کیسے بنتا ہے؟ اس کی طرف حصہ دوم میں، باب 8 میں، لوٹیں گے۔

گواہ کا نہ ہونا صرف ہمارے وعدے کمزور نہیں کرتا۔ ہماری باتیں بھی بدل سکتا ہے۔ جان سولر نے اس پر بحث کی کہ انٹرنیٹ پر شناخت چھپنے یا چہرہ دکھائی نہ دینے سے جھجک کیسے کم ہو سکتی ہے۔ اس سے دل کی بات کہنے اور مدد کرنے کا دروازہ بھی کھل سکتا ہے، اور تکلیف دینے والی باتوں کا بھی۔ وہاں ہماری ہر بات کسی زیادہ سچی ذات کا اظہار نہیں ہوتی3۔ کچھ مخصوص تجربوں میں مدھم روشنی کے ساتھ دھوکا دہی بڑھی، اور دھوپ کے چشمے پہننے کے ساتھ خودغرضانہ رویہ بڑھا۔ اس دوسرے رویے کا تعلق شرکا کے اس احساس سے تھا کہ وہ چھپے ہوئے ہیں4۔ اس سے بہت پہلے، افلاطون کے مکالمے میں گلاؤکون نے گائجیز کی انگوٹھی، جو پہننے والے کو اوجھل کر دیتی ہے، کے ذریعے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جب کوئی آپ کو نہ دیکھے تو آپ کیسے پیش آتے ہیں۔ یہ ایک ذہنی تجربہ تھا، تحقیقی مطالعہ نہیں5۔

”کیا لکھا تھا؟“ والے سوال کے بعد اگلی بار گیم کھیلی تو ایک کھلاڑی نے کوئی چال غلط چلی۔ کریم نے تکلیف دینے والا جواب لکھا، پھر رک گیا۔ اس سے پہلے ٹیم کے ساتھی نے کھلاڑی کو لکھ دیا: ”چال دوبارہ چلو، ایک بار پھر کوشش کرتے ہیں۔“ کریم نے اپنا جواب مٹا دیا اور اپنے لیے ایک چھوٹا سا اصول چن لیا: اجنبی کو ویسے ہی لکھوں گا جیسے اس شخص کو لکھتا ہوں جو میرا نام جانتا ہے۔

دوسری شرط: آپ اپنی جگہ پر ہوں

کریم کے گھر میں فون باورچی خانے میں چارج ہوتا تھا۔ امی دس بجے پوچھتیں: ”سونا نہیں ہے؟“ ہاسٹل میں دس بجے تو وہ ہاسٹل کے لڑکوں کے ساتھ کیفے میں تھا۔ کوئی نہیں اٹھا۔

خود سے کہتا ہے: ”بس آدھا گھنٹہ اور۔“ ایک بجے تھکا ہوا لوٹتا ہے اور صبح پانچ بار ”اسنوز“ دباتا ہے۔

عادت صرف ہمارے اندر نہیں رہتی۔ جگہ میں بھی رہتی ہے۔ کمرے میں، بجھائی جانے والی روشنی میں، بستر سے دور رکھے فون میں، اور ماں کے سوال میں۔ ایک مطالعے میں نئی یونیورسٹی منتقل ہونے والے طلبہ کا جائزہ لیا گیا۔ جب اردگرد کا ماحول پہلے جیسا رہا تو پرانی عادتیں قائم رہیں۔ جب ماحول بدلا تو وہ بکھر گئیں6۔

گھر سے باہر کچھ اور بھی ہمیں دیکھتا ہے: لوگوں کی نظریں۔ مگر ان میں کتنے لوگ واقعی ہم پر توجہ دیتے ہیں؟

ایک دلچسپ تجربے میں طلبہ ایسی ٹی شرٹ پہن کر اپنے ساتھیوں کے ہال میں داخل ہوئے جسے پہن کر انہیں شرمندگی محسوس ہوتی تھی7۔ ان کا اندازہ تھا کہ تقریباً نصف لوگوں نے شرٹ دیکھی ہوگی۔ حقیقت میں تقریباً ایک چوتھائی ہی نے توجہ دی تھی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جتنے لوگ واقعی ہمیں دیکھ رہے ہیں، ان سے کہیں زیادہ کی نظر ہم پر ہے۔ ایسی نظر کا خوف، جو شاید کبھی پڑے ہی نہیں، ہمیں کام ٹالنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہے۔ آپ کا چنا ہوا گواہ مدد کرتا ہے۔ خیالی نظریں آپ کا کام ٹلواتی ہیں۔

جو شخص دس بجے کیفے سے اٹھتا ہے، وہ نکلنے سے پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہوتا ہے: کب اٹھنا ہے، اور کیا کہنا ہے۔ یوں ہر میز کے سامنے پھر سے سودے بازی نہیں کرتا۔

تیسری شرط: آخری وقت قریب ہو

کریم نے لیکچر کی اسائنمنٹ آدھی رات سے ایک منٹ پہلے جمع کر دی۔ پھر ”اس سال“ کی فہرست میں دوڑ کی سطر دیکھی۔ نہ دن، نہ وقت۔ فہرست بند کر دی۔

تو مسئلہ کیا ہے، جب آخرکار ہر کام ہو ہی جاتا ہے؟

پہلے دیکھیں کہ کس چیز نے کام مکمل کرایا: آخری وقت نے۔ آدھی رات کی حد نہ ہوتی تو اسائنمنٹ ابھی باقی ہوتی۔ آخری وقت ایک اور طرح کا گواہ ہے۔ اس کا چہرہ نہیں، مگر سودے بازی بھی نہیں کرتا۔ اسی لیے آپ دوسروں کے لیے وہ کام کر لیتے ہیں جو اپنے لیے نہیں کرتے۔ خود سے کیے وعدے کے لیے کوئی آدھی رات مقرر نہیں۔

ایک مطالعے میں پورے تعلیمی سمسٹر کے دوران یونیورسٹی کے طلبہ کا جائزہ لیا گیا۔ کام ٹالنے والے شروع میں کم تناؤ میں تھے۔ مگر آخر میں سب سے زیادہ تناؤ اور بیماری کا شکار تھے، اور ان کے نمبر بھی کم آئے8۔

ٹالا ہوا کام غائب نہیں ہوتا۔ ذہن میں ادھورا پڑا رہتا ہے اور سارا دن دستک دیتا رہتا ہے۔ محققین نے پایا کہ ادھورے مقصد اس وقت بھی سوچ میں دخل دیتے ہیں جب آپ کسی اور کام میں مصروف ہوں۔ اور انہیں خاموش کرنے کے لیے ایک واضح منصوبہ، کب اور کہاں، کافی ہوتا ہے9۔

جب آپ اپنی بات پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں

ٹوٹا ہوا وعدہ اکیلا نہیں جاتا۔ اپنی بات پر آپ کے یقین کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ساتھ لے جاتا ہے۔

دسویں بار کہتے ہیں: ”سنیچر سے شروع کروں گا۔“ اندر کی ایک آواز سنیچر سے پہلے ہی نتیجہ جانتی ہے، کیونکہ پہلے بھی نو بار آپ کو یہی کہتے سن چکی ہے۔

ماہرِ نفسیات البرٹ بندورا نے اس اعتماد کو ”خود اپنی صلاحیت پر یقین“ کہا: یہ یقین کہ آپ وہ کام کر سکتے ہیں جسے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں10۔ ان کے نزدیک اس کا سب سے طاقتور ذریعہ حوصلہ دینے والوں کی باتیں یا کامیاب لوگوں کی کہانیاں نہیں، آپ کے اپنے تجربے ہیں۔ وہ مواقع جب آپ نے کہا ”کروں گا“، پھر کر دکھایا۔

اسی لیے ہم ایک چھوٹے سے وعدے سے شروع کرتے ہیں۔ اسے نبھانا آپ کو پھر سے اپنی بات پر یقین کرنا سکھاتا ہے۔

اپنے آپ سے ایک معاہدہ

ہمارے زیادہ تر وعدے غیر متعین ارادے ہوتے ہیں: ”دوڑوں گا“، ”پڑھائی کروں گا“، ”جلدی سوؤں گا“۔ غیر متعین ارادے کے بارے میں ہر روز، ہر جگہ، ہر دباؤ کے سامنے نئے سرے سے فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

تو غیر متعین ارادے کی جگہ کیا ہو؟ ضرورت پڑنے سے پہلے، ایک ہی بار فیصلہ کر لیں۔ ماہرینِ نفسیات اسے ”عمل کا ارادہ“ کہتے ہیں: ”اگر… تو…“ کی صورت میں ایک جملہ جو کام کو وقت اور جگہ سے جوڑ دے11۔

ایک تجربے میں طلبہ سے چھٹیوں کے دوران دو دن میں رپورٹ لکھنے کو کہا گیا۔ جنہوں نے پہلے سے طے کر لیا تھا کہ کب اور کہاں لکھیں گے، ان میں تقریباً تین چوتھائی نے لکھ لی۔ جنہوں نے طے نہیں کیا تھا، ان میں تقریباً ایک تہائی نے12۔

کریم نے نوٹ دوبارہ کھولا اور اتوار کی صبح دوڑ، مطالعے اور انگریزی کے لیے مقرر کی۔ آدھا گھنٹہ جدول میں رنگ بھرتا رہا۔ دروازے پر کمرے کے ساتھی نے پوچھا: ”لیکچر سے پہلے یہ سب کرو گے؟“ کہا: ”کوشش کروں گا۔“ الماری کے بالکل نیچے پڑے جوتوں کو دیکھا، مگر نکالا نہیں۔ اسکرین پر اتوار کا نام تھا، مگر وقت نہیں تھا۔ نہ دونوں میں طے ہوا تھا کہ ساتھی کس چیز کے بارے میں پوچھے گا۔ اگلی صبح لیکچر کا الارم بجا تو کریم فوراً اٹھ گیا۔ فون بند کرتے ہوئے رنگین نوٹ سامنے سے گزرا، مگر اس نے کھولا نہیں۔

کب استعمال کریں: جب آپ دوسروں سے وعدے نبھاتے ہیں، مگر خود سے کیے وعدے کو غیر متعین چھوڑ دیتے ہیں۔ درکار وقت: صرف ایک وعدے کی تیاری کے لیے پانچ منٹ، پھر اسے آزمانے کے لیے ایک ہفتہ۔

  1. اس کا وقت طے کریں: دن، وقت اور جگہ۔ ”اتوار، صبح چھ بجے، پارک“۔ یا اگر باہر جانا مناسب نہ ہو تو بستر کے پاس دس منٹ ورزش۔ اگر چھوٹے بچے یا کام کی شفٹ کی وجہ سے وقت آپ کے اختیار میں نہ ہو تو بار بار ملنے والا سب سے مختصر وقفہ چنیں: بچے کے سونے کے بعد پانچ منٹ، یا شفٹ کے وقفے میں۔
  2. گھر سے باہر کے لیے منصوبہ بنائیں: ”اگر میرے دوست دس بجے کے بعد بھی کیفے میں بیٹھے رہے تو میں اٹھ کر کہوں گا: صبح مجھے ایک کام طے شدہ وقت پر کرنا ہے۔“
  3. اسے ایک گواہ دیں: ایسا دوست جو طے شدہ وقت جانتا ہو اور اس کے بارے میں پوچھے۔ کوئی نہ ملے تو سامنے ایک کاغذ رکھیں جس پر ہر روز نشان لگائیں۔
  4. چھوٹا آغاز کریں، اور طے شدہ وقت کے پہلے ہی منٹوں میں: جو کام آپ جلد مکمل کر لیتے ہیں، چاہے دو منٹ ہی میں، وہ ذہن میں ادھورا نہیں رہتا۔

اگر یہ قدم زیادہ لگیں تو ابھی ایک سے شروع کریں۔ دوست کو پیغام بھیجیں: ”اتوار سے چھ بجے دوڑنے جاؤں گا۔ ہر اتوار مجھ سے پوچھنا: دوڑنے گئے تھے؟“

اگر گر جائیں: پورے ہفتے کو ضائع نہ سمجھیں۔ غیر حاضری جیسے ہوئی، ویسے درج کریں۔ دیکھیں کون سی شرط غائب تھی: گواہ، جگہ، یا وقت؟ اسے درست کریں، اور اگلے طے شدہ وقت پر لوٹ آئیں۔

کریم نے اپنے ساتھی کو پیغام بھیجا: ”اتوار، چھ بجے، پارک۔ مجھ سے پوچھنا: دوڑنے گئے تھے؟“ سنیچر کی رات جوتے دروازے کے پاس رکھے اور الارم کے نام میں وہی دن، وقت اور جگہ لکھ دی۔ پہلے اتوار کو نکلا اور ساتھی کے جاگنے سے پہلے لوٹ آیا۔ دوڑ کے لیے الگ رکھے کاغذ پر ایک چھوٹا سا نشان لگا دیا۔

دوسرے اتوار سے پہلے رات کو تین بجے تک گیم کھیلتا رہا۔ الارم بجا تو اسنوز دبایا اور بستر میں پڑا رہا۔ شام کو ساتھی پانی کا گلاس بھر رہا تھا۔ اس نے پوچھا: ”دوڑنے گئے تھے؟“ کریم نے کہا: ”نہیں۔“ ساتھی نے کچھ نہیں کہا۔ اس کے کان گرم ہو گئے۔ نشان لگانے کو کاغذ کی طرف ہاتھ بڑھایا، پھر صفر لکھ دیا۔ ”اگر گر جائیں“ والی سطر پر لوٹا۔ وقت غائب نہیں تھا، نہ پوچھنے والا۔ جوتے کپڑوں کی دھلائی والے بیگ کے نیچے چھپ گئے تھے۔ انہیں نکالا، فون بستر سے دور میز پر رکھا، اور طے کیا کہ دوڑ سے پہلے والی رات گیم جلدی بند کرے گا۔

تیسرے اتوار الارم بند کرنے کو اٹھا تو پاؤں پہلے جوتوں پر پڑا۔ لوٹ کر ساتھی سے کہا: ”نیا وعدہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ میں نے طے شدہ وقت کے لیے تیاری کر لی تھی۔“ کاغذ میز کے اوپر دیوار پر لگا دیا۔ اس پر ایک نشان تھا، پھر صفر، پھر دوسرا نشان۔

دو آئینے

صرف دو سوال، کوئی فہرست نہیں:

  1. دوسروں سے کیا ہوا کون سا وعدہ آپ کبھی نہیں توڑتے، اور خود سے کیا ہوا کون سا وعدہ سب سے زیادہ توڑا ہے؟ دونوں کو ساتھ رکھیں: پہلی صورت میں کون سی شرط موجود ہے جو دوسری میں نہیں؟
  2. دوسرے وعدے کے لیے وقت اور گواہ مقرر کرنے کے ایک ہفتے بعد: کیا وہ قائم رہا؟ اگر ٹوٹا تو اس بار کون سی شرط غائب تھی؟

مہینے کی پہلی تاریخ سے ایک رات پہلے لینا نے اپنے فون میں ”چیلنجز“ کا فولڈر کھولا اور نیا عنوان لکھا: ”تیس دن کا چیلنج“۔ تاریخ پہلے خانے میں ڈال دی، جیسے پچھلے مہینوں میں کرتی آئی تھی۔

حوالے (12)
  1. 1Rubin, G. (2017). The Four Tendencies. Harmony Books.
  2. 2Ryan, R. M., & Connell, J. P. (1989). Perceived locus of causality and internalization: Examining reasons for acting in two domains. Journal of Personality and Social Psychology, 57(5), 749–761.
  3. 3Suler, J. (2004). The online disinhibition effect. CyberPsychology & Behavior, 7(3), 321–326. https://doi.org/10.1089/1094931041291295
  4. 4Zhong, C.-B., Bohns, V. K., & Gino, F. (2010). Good lamps are the best police: Darkness increases dishonesty and self-interested behavior. Psychological Science, 21(3), 311–314. https://doi.org/10.1177/0956797609360754
  5. 5Plato. Republic, Book II, 359c–360d. Translated by Benjamin Jowett. https://classics.mit.edu/Plato/republic.3.ii.html
  6. 6Wood, W., Tam, L., & Guerrero Witt, M. (2005). Changing circumstances, disrupting habits. Journal of Personality and Social Psychology, 88(6), 918–933.
  7. 7Gilovich, T., Medvec, V. H., & Savitsky, K. (2000). The spotlight effect in social judgment: An egocentric bias in estimates of the salience of one's own actions and appearance. Journal of Personality and Social Psychology, 78(2), 211–222.
  8. 8Tice, D. M., & Baumeister, R. F. (1997). Longitudinal study of procrastination, performance, stress, and health: The costs and benefits of dawdling. Psychological Science, 8(6), 454–458.
  9. 9Masicampo, E. J., & Baumeister, R. F. (2011). Consider it done! Plan making can eliminate the cognitive effects of unfulfilled goals. Journal of Personality and Social Psychology, 101(4), 667–683.
  10. 10Bandura, A. (1977). Self-efficacy: Toward a unifying theory of behavioral change. Psychological Review, 84(2), 191–215.
  11. 11Gollwitzer, P. M. (1999). Implementation intentions: Strong effects of simple plans. American Psychologist, 54(7), 493–503.
  12. 12Gollwitzer, P. M., & Brandstätter, V. (1997). Implementation intentions and effective goal pursuit. Journal of Personality and Social Psychology, 73(1), 186–199.