باب یازدہم
وہ مہمان جنہیں ہم نے بلایا نہیں
آپ کے ذہن میں ایسے خوفناک خیال کیوں آتے ہیں جو آپ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے؟
چھوٹی قمیص کی آستین
لینا نے انٹرویو کا پیغام بند کیا، اور بہن کا دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے فون بیگ میں رکھ دیا۔ وہ اب بھی بدھ کی شام ڈیزائن کے کورس کے لیے مخصوص رکھتی تھی۔ اپنے کام کی کچھ شیٹیں اس نے ایک چھوٹے سے پورٹ فولیو میں جمع کر لی تھیں۔ چند ہفتے پہلے اس نے اسے ملازمت کی درخواست کے ساتھ بھیجا تھا۔ بہن نے دروازے پر کہا: ”بالکل صحیح وقت پر آئی ہو“۔
بہن نے اپنی شیرخوار بچی لینا کی بانہوں میں دی، اور باورچی خانے میں واپس چلی گئی۔ بچی اب چھٹے مہینے میں تھی اور ہاتھ آنے والی چیزیں پکڑنے لگی تھی۔ اس نے لینا کی آستین پکڑی اور منہ کی طرف کھینچی۔ لینا ہنسی، اور کپڑا آہستہ سے چھڑا لیا۔
پھر ایک لمحے کو ذہن میں تصویر لہرائی: بچی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ جائے۔ کچھ ہوا نہیں۔ بچی اب بھی آستین پکڑے ننھی ننھی آوازیں نکال رہی تھی، جبکہ لینا کے حلق میں اچانک متلی کی لہر اٹھی تھی۔
بہن نے باورچی خانے سے آواز دی: ”ٹشو تمہارے پاس ہیں“۔ لینا نے اپنے ہاتھوں کو یوں دیکھا جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔ اس کی انگلیاں ڈھیلی پڑنے کے بجائے بچی کی پیٹھ پر اور پھیل گئیں۔ وہ بہن کو بلانا چاہتی تھی، مگر اس ایک سیکنڈ کے بارے میں اسے کیا بتاتی جس میں کچھ ہوا ہی نہیں تھا؟
لینا نے بچی بہن کو واپس دی، اور کہا کہ اسے پانی چاہیے۔ اگلی بار آئی تو گہوارے کے قریب بیٹھنے سے بچتی رہی۔ بہن نے کہا کہ جب تک وہ چائے بنا لے، بچی کو اٹھائے رکھے، تو اس نے کہا: ”میری کمر میں درد ہے“۔
وہ ذہن میں اس تصویر کو دہرانے لگی تاکہ یقین کر سکے کہ وہ ایسا چاہتی نہیں تھی۔ اس نے خود کو تسلی دی، پھر دوبارہ جانچا۔ ہر بار یہ جانچ مزید لمبی ہو جاتی۔ اس نے ایک ٹشو نکالا اور گھٹنے پر دو بار تہہ کیا۔ باورچی خانے سے بہن کی آواز آئی: ”چینی؟“ اس نے کہا: ”تھوڑی“۔ یہ سادہ سا سوال اس کا دھیان بہن کے ساتھ گزرتے وقت کی طرف لوٹا سکتا تھا، مگر وہ اپنے ہی گھڑے ہوئے سوال کا جواب ڈھونڈتی رہی۔
خاموش ہال میں آپ کے ذہن سے چیخنے کا خیال گزر سکتا ہے، حالانکہ آپ چیخنا نہیں چاہتے۔ تو کیا وہ خیال آپ کی خواہش بیان کرتا ہے، یا صرف ذہن سے گزرنے والی کوئی بات ہے؟ یہ مہمان آپ کو چونکا دے تو آپ کیا کرتے ہیں؟ اس کا پیچھا کرتے ہیں، یا اپنا دن روک کر کھوجنے لگتے ہیں کہ وہ آپ کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
خیال گزرنے کا مطلب اسے چاہنا نہیں
کیا ذہن میں ایسا خیال آنے کا مطلب ہے کہ آپ واقعی اسے چاہتے ہیں، یا وہ آپ کے اندر چھپی کوئی بات ظاہر کرتا ہے؟ ان میں سے کوئی بات درست نہیں۔
آپ کا ذہن سارا دن بے ترتیب خیال پیدا کرتا رہتا ہے۔ کچھ خوشگوار، کچھ عجیب، کچھ بہت پریشان کن۔ زیادہ تر ہماری توجہ میں آئے بغیر گزر جاتے ہیں۔ چند ہمیں چونکا دیتے ہیں، تو ہم ان پر دیر تک رک جاتے ہیں۔
ایک پرانی تحقیق میں محققین جیک راخمن اور پدمال ڈی سلوا نے عام لوگوں سے سوال کیے، مریضوں سے نہیں۔ وہ جاننا چاہتے تھے: کیا ان کے ذہن میں پریشان کن، جارحانہ یا عجیب خیال آتے ہیں؟1
تقریباً 80% نے ہاں کہا۔ ان کے خیالات کی صورت اور کچھ مواد، وسواسی جبری عارضے میں مبتلا لوگوں کے خیالات سے ملتا جلتا تھا۔ مگر خیالات کتنی بار آتے تھے، کتنی دیر رہتے تھے، کتنے شدید تھے، اور کیا اثرات ڈالتے تھے، ان باتوں میں فرق تھا۔
کئی دہائیوں بعد ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے چھ براعظموں کے 13 ملکوں میں یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ سے معلومات جمع کیں2۔ 90% سے زیادہ نے تصدیق کی کہ وقتاً فوقتاً ناپسندیدہ خیال ان کے ہاں آتے ہیں۔ کبھی نقصان کے بارے میں، کبھی شک، کبھی ایسی تصویریں جنہیں وہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ تقریباً کوئی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا، چاہے باہر سے کتنا ہی پُرسکون دکھائی دے۔
کچھ خیالات ان باتوں کا رنگ لے لیتے ہیں جو آپ کے ذہن پر چھائی ہوں، یا ان چیزوں کا جن کی سلامتی کی آپ کو فکر ہو۔ کچھ بغیر ایسی وجہ کے گزرتے ہیں جسے آپ پہچان سکیں۔ ہر خیال کو گزرنے دینے کے لیے اس کی وجہ جاننا ضروری نہیں۔
جب آپ مہمان کی بات کو سچ مان لیں، یا زبردستی اسے بھگانے لگیں
پہلی غلطی مہمان کو سچ مان لینا ہے۔ یہ سمجھنا کہ خیال اندر کی کسی حقیقی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔ معالج رس ہیرس اسے خیال کے ساتھ یک جان ہونا کہتے ہیں۔ اپنی کتاب The Happiness Trap3 میں وہ سمجھاتے ہیں کہ جب خیال آپ سے چپک جاتا ہے، تو آپ اسے اپنی ذات سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ صرف ذہن سے گزرنے والا خیال یا تصویر نہیں رہتا۔
اس کا متبادل ہے خیال سے فاصلہ پیدا کرنا۔ یعنی خیال کو کچھ فاصلے سے دیکھنا۔ خود سے کہیں: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا“، یہ نہیں کہ ”میں ایسا ہوں“۔ صرف یہ فاصلہ اس کی گرفت کم کر دیتا ہے۔ تو ہم کسی گزرتے مہمان کو خود پر فیصلہ سنانے کا اختیار کیوں دیں؟
دوسری غلطی مہمان کو زور سے بھگانے کی کوشش ہے۔ ہم خود سے بار بار کہتے ہیں: یہ مت سوچو، یہ مت سوچو۔ اور یہاں الٹا ہوتا ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈینیل ویگنر اپنی کتاب ”White Bears and Other Unwanted Thoughts“4 میں سمجھاتے ہیں کہ خیال کو نکالنا مشکل کیوں ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک گروہ سے کہا کہ پانچ منٹ تک سفید ریچھ کے بارے میں نہ سوچیں، اور جب بھی اس کا خیال آئے گھنٹی بجائیں5۔ انہوں نے پوری کوشش کی، پھر بھی بار بار گھنٹی بجائی۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ بعد میں جب انہیں اس کے بارے میں سوچنے کو کہا گیا، تو انہوں نے اس گروہ سے زیادہ سوچا جسے شروع ہی سے اس کے بارے میں سوچنے کو کہا گیا تھا۔
دبانے اور فاصلہ پیدا کرنے کا فرق معمولی نہیں۔ نکالنے کی کوشش خیال سے کہتی ہے: چلے جاؤ۔ صرف یہی بات آپ کی توجہ کو اس سے باندھے رکھتی ہے۔ فاصلہ پیدا کرنا کہتا ہے: چاہو تو گزر جاؤ، میں نہ تمہیں روکوں گا، نہ تمہارے پیچھے جاؤں گا۔ اس سے فوراً سکون ملنا شرط نہیں۔ آپ جس تبدیلی کی مشق کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ خیال کی موجودگی میں بھی اپنے لیے اہم کام جاری رکھیں۔
جب سوال زبان پر آیا
ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے کچھ صحابہ آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے دل میں آنے والی ایسی باتوں کے بارے میں پوچھا جنہیں زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتے تھے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا انہیں واقعی یہ محسوس ہوا ہے، تو انہوں نے ہاں کہا۔ روایت سوال اور جواب بیان کرتی ہے۔ نہ ان خیالات والے صحابہ کے نام بتاتی ہے، نہ ایک ایک کر کے ان کے خیالات بیان کرتی ہے6۔
وہ آئے، اور انہوں نے پوچھا۔ دل کی بات زبان پر سوال بن کر آ گئی۔ وہ صرف ایسا فیصلہ بن کر نہیں رہی جو ہر شخص اکیلے خود پر سناتا رہے۔
”یہی تو خالص ایمان ہے“۔ (مسلم 132)
نبی ﷺ نے یہ ان صحابہ سے کہا جو ایسے خیالات کی شکایت لے کر آئے تھے جنہیں زبان پر لانے سے وہ شرماتے تھے۔ آپ نے انہیں ڈانٹا نہیں، تسلی دی۔ خیال کو سنگین سمجھنا اور اس سے پریشان ہونا خود خالص ایمان ہے، اس کا الٹ نہیں۔ ایک اور جگہ ذہن سے گزرنے والے وسوسے کے لیے عملی قدم بتایا گیا ہے: ”اللہ کی پناہ مانگے، اور رک جائے“۔ (البخاری 3276)7۔ یعنی بحث کرتے ہوئے خیال کا پیچھا چھوڑ دے، اور اس کے ساتھ ختم نہ ہونے والی گفتگو شروع نہ کرے۔
گزرتا ہوا مہمان
کب استعمال کریں: جب آپ پریشان کن خیال کو اپنی نیت یا ذات پر فیصلہ بنا دیں۔ درکار وقت: اسے نام دینے کے لیے ایک لمحہ، پھر جاری کام کی طرف واپسی۔ اس کے غائب ہونے کے لیے کسی متعین وقت کا انتظار نہ کریں۔
اسے گزرنے دیں۔ اس کے جانے کا وقت دیکھنے کے لیے اپنا دن نہ روکیں۔
- اسے خیال کہیں، حقیقت نہیں: جب کوئی پریشان کن خیال آئے، دل میں خود سے کہیں: ”یہ گزرتا ہوا خیال ہے“، یہ نہیں کہ ”یہ میں ہوں“۔ پہلی بات آپ اور خیال کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہے، دوسری اسے ختم کر دیتی ہے۔
- اس سے بحث نہ کریں: بار بار جرح میں نہ پڑیں: میں نے یہ کیوں سوچا؟ اگر میں واقعی یہ چاہتا ہوں تو؟ ہر خیال کے بارے میں قطعی یقین حاصل کرنا آپ پر لازم نہیں۔
- اسے نہ بھگائیں: اسے موجود رہنے دیں۔ نہ ساری توجہ اسے دے دیں، نہ ہر لمحہ دیکھیں کہ وہ غائب ہوا یا نہیں۔
- کسی ٹھوس کام کی طرف لوٹیں: وہ صفحہ مکمل کریں جو پڑھ رہے تھے، لیکچر کی طرف واپس آئیں، یا کپڑے تہہ کرنا جاری رکھیں۔ اپنا دن جاری رکھنے کے لیے خیال کے غائب ہونے کا انتظار نہ کریں۔
- آج رات اسے آزمائیں: اگلی بار کوئی پریشان کن خیال آئے، تو اسے ”گزرتا ہوا مہمان“ کہیں۔ پھر وہ کام جاری رکھیں جو کر رہے تھے، چاہے کچھ بے چینی باقی رہے۔
اگر گر جائیں: اگر پھر خیال سے بحث کرنے لگیں، تو اسے محسوس کریں اور اسی کام کی طرف لوٹ آئیں۔ پہلا مقدمہ لمبا ہو گیا تو اس پر اپنے خلاف دوسرا مقدمہ نہ شروع کریں۔
لینا نے دوبارہ بچی کو اٹھایا تو تصویر واپس آ گئی۔ اس نے دل میں کہا: ”میں دیکھ رہی ہوں کہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا“۔ پھر فوراً خود سے پوچھا کہ کیا اس نے یہ درست طریقے سے کہا ہے۔ پچھلی کوشش کو جانچنے کے لیے ایک نئی کوشش شروع ہو گئی۔
اس نے دھیان دیا کہ وہ کیا کر رہی ہے، اور ”اگر گر جائیں“ والی سطر پر لوٹ آئی: بحث چھوڑنا اور کام جاری رکھنا۔ اس نے بچی کی آستین درست کی، اور بہن سے اس چینی کی مقدار پر بات کرنے لگی جو اس نے چائے میں ڈالی تھی۔ کچھ بے چینی باقی رہی۔ اور وہ بہن کے ساتھ وقت گزارتی رہی۔
جانے سے پہلے اس نے بہن سے کہا: ”میرے ذہن میں تصویر آئی کہ یہ میرے ہاتھ سے گر جائے۔ میں ڈر گئی، اور میں ایسا چاہتی نہیں تھی“۔ بہن نے چمچ پلیٹ پر رکھا اور بیٹھ گئی۔ ”تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟“ لینا نے کہا: ”میں نے سمجھا کہ اس کا آنا میرے بارے میں کچھ بتاتا ہے“۔
اس نے اسے انٹرویو کے پیغام کے بارے میں بھی بتایا۔ اس کا وقت صرف لینا کے شوہر اور سہیلی کو معلوم تھا۔ مگر ابو، جو اب بھی کہتے تھے ”ایک معتبر کمپنی میں اکاؤنٹنٹ“، نہ کورس کے بارے میں جانتے تھے، نہ انٹرویو کے۔ راہداری میں لینا نے کہا: ”خیال گزرتا ہے، اور میں فیصلہ کرتی ہوں کہ کیا کروں“۔ پھر اس نے بانہیں بڑھائیں، اور رخصت ہونے سے پہلے بچی کو اٹھا لیا۔
مہمانوں کی کاپی
کاپی میں، یا ایسے ذریعے میں لکھیں جو آپ کی توجہ نہ بٹائے۔ جلدی نہ کریں۔ کچھ سوالوں کا جواب دیتے وقت خود سے زیادہ سچ بولنا پڑتا ہے:
- کون سا خیال آپ کے ہاں ایک سے زیادہ بار آیا، مگر آپ نے کسی کو بتایا نہیں؟
- جب ایسا خیال آتا ہے، تو آپ عموماً کیا کرتے ہیں: اس سے بحث کرتے ہیں، زور سے بھگاتے ہیں، یا اسے گزرنے دیتے ہیں؟
- کیا آپ اس وقت ”یہ خیال میرے بارے میں کیا بتاتا ہے؟“ کو بے جواب چھوڑ سکتے ہیں، پھر اپنی پسند کے کسی کام کی طرف لوٹ سکتے ہیں؟
انٹرویو سے پچھلی رات لینا نے دس بجے بتی بند کی اور خود سے کہا کہ وہ سو جائے گی۔ اس نے جوتے دروازے کے پاس ترتیب سے رکھے، پورٹ فولیو بیگ پر رکھا، پھر لیٹ گئی۔ فون ہاتھ کی پہنچ میں تھا۔
حوالے (7)
- 1Rachman, S., & de Silva, P. (1978). Abnormal and normal obsessions. Behaviour Research and Therapy, 16(4), 233–248.
- 2Radomsky, A. S., Alcolado, G. M., Abramowitz, J. S., et al. (2014). Part 1—You can run but you can't hide: Intrusive thoughts on six continents. Journal of Obsessive-Compulsive and Related Disorders, 3(3), 269–279.
- 3Harris, R. (2008). The Happiness Trap: How to Stop Struggling and Start Living. Trumpeter.
- 4Wegner, D. M. (1989). White Bears and Other Unwanted Thoughts: Suppression, Obsession, and the Psychology of Mental Control. Viking.
- 5Wegner, D. M., Schneider, D. J., Carter, S. R., & White, T. L. (1987). Paradoxical effects of thought suppression. Journal of Personality and Social Psychology, 53(1), 5–13.
- 6مسلم، صحیح، حدیث 132۔ ابوہریرہ سے روایت، صحابہ کا ایسی باتوں کے بارے میں سوال جنہیں زبان پر لانا سنگین سمجھتے تھے۔ صحیح۔ حدیث کا متن۔
- 7البخاری، صحیح، حدیث 3276۔ ابوہریرہ سے روایت، ”اللہ کی پناہ مانگے، اور رک جائے“۔ صحیح۔ حدیث کا متن۔