باب دہم
وہ بات جو واپس نہیں لی جا سکتی
ناقابلِ تلافی نقصان سے پہلے آپ خود کو کیسے روکیں؟
دروازے پر کتاب
سمسٹر کی چھٹیوں میں کریم گھر لوٹا۔ جمعے کے دوپہر کے کھانے پر پورا خاندان میز کے گرد بیٹھا تھا۔ چچا نے اس سے ہاسٹل کے بارے میں پوچھا۔ جواب سننے سے پہلے ہی باقی لوگوں کی طرف مڑ گئے: ”ہائی اسکول کے آخری سال کے ریاضی کے امتحان سے پہلے کی رات یاد ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ کریم کی امی صبح تین بجے جاگیں۔ بیٹے کے دروازے کے نیچے سے روشنی دیکھی تو سمجھیں کہ پڑھ رہا ہے۔ دروازہ کھولا تو وہ بستر میں تھا۔ فون، جو باورچی خانے کے چارجر پر چھوڑا تھا، اس کے ہاتھ میں تھا۔ کانوں پر ہیڈسیٹ لگائے اپنی ٹیم سے سرگوشی کر رہا تھا: ”بس ایک راؤنڈ۔“ ریاضی کی کتاب فرش پر بند پڑی تھی۔
سب ہنسے۔ کریم بھی ان کے ساتھ ہنسا۔ پھر چچا نے کہا: ”اور یہی اکیلے رہنا چاہتا تھا! وہاں اس کی اسکرین کون بند کرے گا؟“ قہقہے اور بلند ہوگئے۔ کریم کے چہرے پر مسکراہٹ رہی۔ انگلیوں کے درمیان روٹی کا کنارہ ٹوٹ گیا۔ قریب تھا کہتا: ”اب میں وہ لڑکا نہیں رہا۔“ پھر ہاسٹل کی وہ راتیں یاد آئیں جب کھیلتے کھیلتے کھڑکی سے روشنی اندر آنے لگتی تھی۔ بات لبوں تک آ کر رک گئی۔
شام کو چھوٹی بہن اپنی کتاب لے کر اس کے کمرے میں آئی۔ ہتھیلی کے کنارے سے صفحہ ہموار کیا، مڑا ہوا کونا پھر سیدھا کیا۔ دروازے پر کھڑی ہو کر بولی: ”صفحہ چنو۔“ کریم نے کتاب کی طرف نہیں دیکھا۔ فون کی تاریک اسکرین کو دیکھا، جس میں اس کی آنکھیں دکھائی دیں۔
وہ صفحات پلٹنے لگی، جن کی سرسراہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔ کریم کا کندھا اٹھ گیا، جبڑا بھنچ گیا۔ کھانے کے قہقہے اب بھی کانوں میں تھے۔ بہن نے چھوٹی کرسی کھینچ کر اس کے پاس کی۔ ٹائلوں پر اس کی رگڑ کی آواز وہ پہچانتا تھا۔ گھر سے جانے سے پہلے اسے یہ آواز اچھی لگتی تھی۔ اس بار کرسی روکنے کے لیے اس کی پشت پر ہاتھ بڑھایا۔ بہن نے پہلی سطر پر انگلی رکھی اور پڑھنے لگی۔
کریم نے کرسی زور سے کھینچی اور بہن پر چلایا: ”مجھے اکیلا چھوڑ دو!“ اس نے پڑھنا روک دیا۔ دونوں ہاتھوں سے کتاب بند کی اور آستین سے گال پونچھتی ہوئی چلی گئی۔
وہ باورچی خانے میں گیا اور کھڑے کھڑے پانی پیا۔ جگہ بدل لی تھی، مگر جملہ اس سے پہلے نکل چکا تھا۔ صفائیاں دینے لگا: جب سے آئی تھی، بولتی ہی جا رہی تھی۔ کسی نے سمجھا ہی نہیں کہ وہ تھکا ہوا ہے۔ بلا ضرورت نل کھولا، پھر گلاس بھرنے سے پہلے بند کر دیا۔ پاس کے کمرے سے بہن کی دھیمی پڑھنے کی آواز آئی۔ وہ اس کے لیے نہیں پڑھ رہی تھی۔ اسے کوئی ایسی بات نہ ملی جس کے ساتھ اس کے پاس جا سکے۔
کتنی بار کسی کے سامنے بات پی گئے، پھر کسی اور پر برس پڑے؟ منہ سے بات نکلنے سے پہلے آپ کا کندھا اور جبڑا آپ کو خبردار کر سکتے ہیں۔ غصہ موجود ہے۔ مگر اس غصے میں آپ کس سے کیا کہیں گے، اور اس کی قیمت کون چکائے گا؟
غصہ دشمن نہیں
غصہ ایک فطری احساس ہے، کبھی مفید بھی۔ پُرسکون شخص وہ نہیں جسے کبھی غصہ ہی نہ آئے۔
امریکی محقق رائن مارٹن نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی غصے ہی کے مطالعے میں گزاری۔ اسے محض جذبات کی ایک عمومی فہرست کا حصہ سمجھ کر نہیں دیکھا۔ اپنی کتاب Why We Get Mad1 میں وہ بتاتے ہیں کہ غصہ اکثر ایک پیغام رساں ہے: بتاتا ہے کسی نے حد پار کی، کوئی ناانصافی ہوئی، یا کسی ضرورت کا احترام نہیں کیا گیا۔
غصے اور بات کے درمیان ایک مہلت ہوتی ہے، جو شاید ایک منٹ سے زیادہ نہ ہو۔ طاقت یہ نہیں کہ غصہ نہ آئے، بلکہ یہ کہ وہ منٹ آپ کے اختیار میں ہو۔ وہ چیخنے میں ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ بات نگل کر یہ سمجھنے میں بھی کہ معاملہ ختم ہوگیا۔
جب چنگاری کہیں اور پہنچتی ہے
نفسیات میں غصے کا اصل شخص سے ہٹ کر کسی دوسرے کی طرف منتقل ہونا منتقلی کہلاتا ہے۔ آپ کسی ایسے شخص کے سامنے خاموش رہ سکتے ہیں جسے جواب دینا مشکل ہو۔ پھر بات کسی قریبی شخص کے سامنے نکل جاتی ہے جس پر آواز بلند کر سکتے ہیں۔ کھانے کے وقت خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ غصہ ختم ہوگیا۔ اس کے اظہار کا ایسا راستہ چاہیے جو اس کی اصل وجہ تک جائے۔
اپنے اندر کی کیفیت کو ٹھیک ٹھیک جاننا
کریم سے پوچھا جاتا کہ کیسا محسوس کر رہے ہو، تو کہتا: غصہ آ رہا ہے۔ جواب درست ہوتا، مگر نامکمل۔
ماہرِ نفسیات لیزا فیلڈمین بیریٹ مطالعہ کرتی ہیں کہ ہمارے جذبات کیسے بنتے ہیں۔ اپنی کتاب How Emotions Are Made2 میں وہ ایسی تشریح پیش کرتی ہیں جس میں غصہ کوئی تیار فائل نہیں جو ہر بار ایک ہی طرح کھل جائے۔ اس تشریح میں دماغ آپ کے پچھلے تجربات اور اردگرد کے حالات سے جسمانی احساسات کو معنی دیتا ہے۔ آپ کے الفاظ بھی ان چیزوں میں شامل ہیں جن سے ان تجربات میں فرق کرنا سیکھتے ہیں۔ پھر ہمیں زیادہ درست لفظ تلاش کرنے سے کیا روکتا ہے؟
جس کے پاس اپنے احساسات کے لیے زیادہ درست الفاظ ہوں، وہ عموماً ان پر بہتر قابو رکھتا ہے۔ ”غصہ“ ایک لفظ ہے جس میں کئی کیفیتیں ملی ہوتی ہیں: بے عزتی، جواب نہ دے پانا، یا احترام کھونے کا ڈر۔ ہر ایک کو دوسرے سے مختلف جواب چاہیے۔
محقق سوزن ڈیوڈ اپنی کتاب Emotional Agility میں دو انداز بیان کرتی ہیں3: ”دبانے والا“ اپنے احساس کو ایک طرف دھکیل دیتا ہے۔ ”بار بار سوچنے والا“ ذہن میں اسے دہراتا رہتا ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتا۔ وہ تیسرا راستہ تجویز کرتی ہیں: اپنے احساس کا درست نام رکھیں، تجسس کے ساتھ اسے دیکھیں، پھر اپنی اقدار کے مطابق عمل کریں۔ جیسے کہیں: ”اس وقت میری بے عزتی ہوئی ہے۔ پھر بھی اپنے الفاظ سوچ کر چنوں گا۔“
جھٹکے کے بعد
انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے۔ آپ نے موٹے کنارے والی نجرانی چادر پہن رکھی تھی۔ ایک بدوی آیا اور چادر کو زور سے کھینچا۔ انس نے نبی ﷺ کے کندھے پر چادر کے کنارے کا نشان دیکھا۔ پھر بدوی نے کہا کہ اسے مال دینے کا حکم فرمائیں۔ انس بتاتے ہیں اس کے بعد کیا ہوا: نبی ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے، ہنسے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا4۔
جھٹکے کے بعد کی بات دیکھیں۔ روایت میں جسم پر نشان واضح ہے۔ مطالبہ اس کے بعد آیا۔ پھر بھی اس جھٹکے کا جواب ویسے ہی جھٹکے سے نہیں دیا گیا۔ ہم دونوں عملوں کو الگ الگ دیکھ سکتے ہیں۔
جواب سے پہلے خود کو دی ہوئی مختصر مہلت اپنا ردِعمل چننے کا موقع ہے۔ واقعے کے بارے میں بات کرنے کا حق پھر بھی آپ کا رہتا ہے۔ انس ردِعمل کا بیان یوں ختم کرتے ہیں: ”آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے، ہنسے، پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا۔“ (بخاری 3149)۔
جب جذبات نظر نہیں آتے تو کہاں جاتے ہیں؟
نفسیاتی محقق جیمز گروس نے ایک تجربہ کیا5: رضاکاروں کو بازو کاٹے جانے کی ایک تکلیف دہ ویڈیو دکھائی۔ ایک گروہ سے کہا اپنے تاثرات چھپائیں۔ دوسرے سے کہا غیر جانب دار نظر سے دیکھیں تاکہ جذباتی شدت کم ہو۔ تیسرے کو معمول کے مطابق دیکھنے دیا۔
تاثرات چھپانے والوں نے عام طریقے سے دیکھنے والے گروہ سے کم گھن محسوس نہیں کی۔ بس اپنے احساس کا اظہار کم کیا۔ باہر سے زیادہ پُرسکون لگے، مگر اندر احساس کی شدت کم نہیں ہوئی تھی۔
زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اظہار چھپانے کے ساتھ سمپیتھیٹک اعصابی نظام کی سرگرمی بڑھ گئی۔ احساس دبانا احساس کا رک جانا نہیں۔ اسے چھپانے کی محنت ہے، جس کی جسمانی قیمت ہوتی ہے۔
جنہوں نے منظر کو نئے زاویے سے سمجھا، ان کی محسوس کی ہوئی گھن واقعی کم ہوگئی۔ معمول کے مطابق دیکھنے والے گروہ کے مقابلے میں جسمانی ہیجان بھی نہیں بڑھا۔ اپنی زندگی میں بھی واقعے کو کسی اور زاویے سے سمجھنے کی کوشش کریں، جو پہلے سخت فیصلے کے علاوہ کوئی امکان کھولے۔
بعد میں محقق اولیور جان کے ساتھ گروس نے روزمرہ زندگی میں جذبات کو سنبھالنے کا مطالعہ کیا6۔ جذبات کا اظہار چھپانے کی عادت کا تعلق زندگی سے کم اطمینان اور کمزور سماجی رشتوں سے ملا۔ یہ تعلق ثابت نہیں کرتا کہ جذبات دبانا ہی اکیلی وجہ ہے۔ مگر آپ کو سوال کی دعوت دیتا ہے: جس خاموشی کو آپ آس پاس والوں کی حفاظت سمجھتے ہیں، کیا وہ واقعی انہیں آپ کے قریب لاتی ہے؟
صرف احساس دبا لینے سے آپ کو پریشان کرنے والی بات کا سامنا نہیں ہوتا۔ پھٹ پڑنے سے آپ کی بات کسی ایسے شخص پر نکل سکتی ہے جس کا اس سے تعلق ہی نہ ہو۔ اس لیے خاموش رہنا کافی نہیں، چیخنا بھی نہیں۔ ایک تیسرا راستہ چاہیے۔
ردِعمل پر قابو رکھنے کے معنی میں: ”طاقت ور وہ نہیں جو کُشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے۔ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھے۔“ (بخاری 6114)7۔
آپ کو ایسے قدم چاہییں جو اسی منٹ اٹھا سکیں، اور ایسا راستہ جس سے بعد میں اپنے احساس کا اظہار کر سکیں۔ اس مہلت کو وقفہ کہیں، ہتھیار ڈالنا نہیں۔
ایک مختصر وقفہ، اور صحیح دروازہ
کب استعمال کریں: جب غصہ محسوس ہو اور جواب دینے والے ہوں، یا محسوس کریں کہ کسی اور پر اتار رہے ہیں۔ درکار وقت: دس منٹ کی مجوزہ مہلت، پھر پُرسکون ہونے پر اصل شخص سے بات کرنے کا وقت۔
- اپنے اندر کی کیفیت کا درست نام رکھیں: صرف ”میں غصے میں ہوں“ یا ”میں ٹھیک ہوں“ پر اکتفا نہ کریں۔ ایک جملہ لکھیں: ”مجھے… محسوس ہوا، جب…“ اس غصے میں کیا ہے: بے عزتی، جواب نہ دے پانا، یا خوف؟ درست نام دینا احساس کی شدت کم کر سکتا ہے۔
- جسم کی حالت فوراً بدلیں: کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔ غصہ اب بھی بڑھ رہا ہو تو لیٹ جائیں، یا وہاں سے چند قدم دور چلیں۔
- بات مؤخر کریں، احساس نہیں: غصہ محسوس کرنا آپ کا حق ہے۔ جذبات کی شدت میں جواب دینے سے پہلے خود کو وقت دیں۔ کسی پیغام، جملے یا فیصلے سے پہلے دس منٹ دیں۔
- شدت اور وجہ الگ کریں: پہلے دکھائی دینے والے شخص پر غصہ اتارنے سے پہلے پوچھیں: کیا یہ سب اسی چھوٹے واقعے کی وجہ سے ہے؟ اصل وجہ کون بنا؟ آپ کے چھوٹے بھائی، دوست یا ساتھ پڑھنے والے کو کسی اور کا بل ادا نہیں کرنا چاہیے۔
- احساس کے لیے صحیح دروازہ کھولیں: نئے زاویے سے دیکھنے کا مطلب اپنے حق سے دست بردار ہونا نہیں۔ ”بات بڑھانے کی ضرورت نہیں“ یا ”اب کچھ فرق نہیں پڑے گا“ کی جگہ یہ آزمائیں: ”اس بات نے مجھے پریشان کیا ہے۔ اس پر بعد میں توجہ دوں گا: کسی پُرسکون وقت میں متعلقہ شخص سے بات کروں گا، اسے لکھوں گا، یا ایک مختلف دن کا منصوبہ بناؤں گا۔“
اگر گر جائیں: جس تک آپ کا غصہ پہنچا، اس سے صاف معافی مانگ کر اصلاح کا دروازہ کھولیں۔
جذبات کی شدت میں کسی کو تکلیف دی ہو تو صاف معافی مانگیں: ”تم پر چیخنا میری غلطی تھی۔ میں کسی اور بات سے پریشان تھا۔ اس سے میرے کیے کا جواز نہیں بنتا۔ اس کے اثر کو درست کرنے کی کوشش کروں گا۔“
اگلا دوپہر کا کھانا
صبح کریم باورچی خانے کے دروازے پر کھڑا ہوا۔ بہن اپنی پلیٹ میں روٹی کے ٹکڑے جمع کر رہی تھی۔ اس نے شروع کیا: ”میں پریشان تھا…“ بہن نے نظریں اٹھائیں۔ وہ رک گیا۔ جملے میں اسے الزام دوبارہ بہن پر ڈالنے کا راستہ سنائی دیا۔
اسے اصلاح کا دروازہ یاد آیا۔ کہا: ”تم پر چیخنا میری غلطی تھی۔ میرے غصے میں تمہارا قصور نہیں تھا۔“ دوسرے دروازے پر ابو کھڑے تھے۔ دونوں کو دیکھا، پھر مڑے اور کچھ کہے بغیر چلے گئے۔
بہن نے فوراً کتاب نہیں کھولی۔ کہا: ”کل میں نے لمبا صفحہ چن لیا تھا۔“ کریم اس کے پاس بیٹھا: ”دو بار میں پڑھ لیں گے۔“ اس نے پہلی سطر پڑھی، ایک لفظ پر اٹک گئی۔ کریم نے انتظار کیا۔
اگلے جمعے کے دوپہر کے کھانے پر چچا نے صبح تین بجے والی کہانی پھر سنائی۔ کریم کے کان گرم ہونے لگے۔ اپنے احساس کو نام دیا: سب کے سامنے بے عزتی۔ بات نکلنے سے پہلے اجازت لے کر باورچی خانے چلا گیا۔ وہاں دس منٹ بیٹھا۔ چچا اپنی گاڑی کی طرف گئے تو ان کے ساتھ چلا اور کہا: ”اس رات کی کہانی سب کے سامنے مجھے شرمندہ کرتی ہے۔ اسے دوبارہ نہ سنائیے، پلیز۔“ چچا نے کہا: ”مذاق تھا۔“ کریم نے کہا: ”معلوم ہے۔ مگر میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ ہو۔“ چچا ایک لمحہ خاموش رہے، پھر کہا: ”جیسے تم چاہو۔“ شام کو بہن نے کتاب اس کے گھٹنے پر رکھی: ”صفحہ چنو۔“ اس بار اس نے کتاب دیکھی، ایک صفحہ چنا اور چھوٹی کرسی بہن کے لیے قریب کر دی۔
آپ کے غصے کی قیمت کون چکاتا ہے؟
جلدی جواب نہ دیں۔ وقت لیں:
- کون سا شخص دوسروں سے زیادہ آپ کا غصہ برداشت کرتا ہے، حالاں کہ اس میں اس کا قصور سب سے کم ہے؟
- آخری بار جب آپ کی آواز بلند ہوئی، اس سے دس منٹ پہلے وقت واپس لے جائیں تو کون سی بات آپ کو پریشان کر رہی تھی جو کسی سے نہیں کہی؟
اسی شام بہن کے گھر کے سامنے گاڑی سے اترنے سے پہلے لینا کے فون پر ایک ای میل کا نوٹیفکیشن روشن ہوا۔ چابی ساتھ والی نشست پر رکھی اور وہ پیغام کھولا جو کئی ہفتوں کے انتظار کے بعد آیا تھا۔
حوالے (7)
- 1Martin, R. (2021). Why We Get Mad: How to Use Your Anger for Positive Change. Watkins.
- 2Barrett, L. F. (2017). How Emotions Are Made: The Secret Life of the Brain. Houghton Mifflin Harcourt.
- 3David, S. (2016). Emotional Agility: Get Unstuck, Embrace Change, and Thrive in Work and Life. Avery.
- 4بخاری، صحیح، حدیث 3149۔ انس بن مالک سے روایت: بدوی کا چادر کھینچنا، پھر عطا کا حکم۔ صحیح۔ حدیث کا متن۔
- 5Gross, J. J. (1998). Antecedent- and response-focused emotion regulation: Divergent consequences for experience, expression, and physiology. Journal of Personality and Social Psychology, 74(1), 224–237.
- 6Gross, J. J., & John, O. P. (2003). Individual differences in two emotion regulation processes: Implications for affect, relationships, and well-being. Journal of Personality and Social Psychology, 85(2), 348–362.
- 7بخاری، صحیح، حدیث 6114۔ ابو ہریرہ سے روایت: غصے کے وقت خود پر قابو رکھنا۔ صحیح۔ حدیث کا متن۔