باب دوازدہم
”اگر“… وہ لفظ جو آپ کی نیند چرا لیتا ہے
جو آپ کے اختیار میں نہیں، اسے کیسے چھوڑیں؟
رات دو بجے ایک نام
رات دو بجے، ڈیزائن کی ملازمت کے انٹرویو سے چند گھنٹے پہلے، لینا فون میں اپنے جاننے والوں کے نام دیکھ رہی تھی۔ کسی سے بات کرنا چاہتی تھی۔ ایک نام پر رکی جسے فون نہیں کر سکتی تھی۔ وہ ابو کا نام تھا۔ اس وقت فون کرتی تو وہ پوچھتے کیا ہوا ہے۔ اسے اس انٹرویو کے بارے میں بتانا پڑتا جس کا انہیں سرے سے علم ہی نہیں تھا۔
ناموں کی فہرست بند کر دی۔ دروازے کے پاس جوتے رکھے تھے۔ بیگ کے اوپر کورس کے کام کی فائل تھی۔ اس میں ایک لوگو تھا جسے چھ بار دوبارہ بنایا تھا۔ ادارے کے بارے میں پڑھ چکی تھی، اپنا سی وی دیکھ لیا تھا، آئینے کے سامنے جواب بول کر آزما لیے تھے۔
تلاش کے خانے میں ایک متوقع سوال لکھا: آپ اکاؤنٹنگ کیوں چھوڑنا چاہتی ہیں؟ ایک جواب پڑھا۔ اسے اپنے اندازِ گفتگو میں ڈھالا، پھر مٹا دیا۔ سوال کرنے لگی: اگر بولتے ہوئے اٹک گئی تو؟ اگر کوئی مجھ سے بہتر کام لے کر آگئی تو؟
بستر کے دوسرے کنارے پر شوہر نے کروٹ بدلی: ”رات کتنی باقی ہے؟“ اس نے کہا: ”اب سوتی ہوں۔“ فون اوندھا رکھ دیا۔ اندھیرے میں مٹایا ہوا جواب لفظ بہ لفظ دہرانے لگی۔ نوٹیفکیشن کی ہلکی سی آواز سنی۔ یہ جاننے سے پہلے کہ کیا ڈھونڈ رہی ہے، ہاتھ فون کے کنارے تک پہنچ گیا۔
تین بجے سوالوں کا ایک نیا صفحہ سامنے آیا۔ دو سوال محفوظ کیے جو اس کی فہرست میں نہیں تھے، ان کے جواب تلاش کیے۔ مگر لوگو والی فائل اس گھنٹے میں ایک بار بھی نہیں کھولی۔ جو کچھ اس کے بس میں تھا وہ دروازے کے پاس تیار تھا۔ فون میں اس کی تلاش تھی کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔
آپ کا جسم بستر میں ہے، ذہن ایک ایسے کمرے میں جس میں ابھی داخل نہیں ہوئے۔ جواب جانتے ہیں، پھر دہراتے ہیں، ایسے جواب کی تلاش میں جو کل کی ضمانت دے۔ کتنی راتیں ایسی گفتگو کے حوالے کیں جو ہوئی ہی نہیں؟ اس گفتگو کا کون سا حصہ واقعی اس وقت آپ کے اختیار میں ہے؟
جب نامعلوم بات آپ کو پریشان کرتی ہے
آپ کو ٹھیک کس بات کا ڈر ہے؟ شاید واضح جواب نہ ملے، حالاں کہ بے چینی کم نہیں ہوتی۔
ایک چھوٹے ابتدائی مطالعے میں مشیل ڈوگاس اور ساتھیوں نے عمومی اضطراب کے عارضے والے چوبیس افراد کا موازنہ بیس ایسے افراد سے کیا جو مریض نہیں تھے1۔ غیر یقینی کیفیت برداشت نہ کر پانا دونوں گروہوں میں فرق کرنے والے نمایاں عوامل میں تھا۔ یہ نتیجہ ایک مفید سوال تک لے جاتا ہے: ”مجھے معلوم نہیں“ کے ساتھ آپ کیسے پیش آتے ہیں؟
طبی معائنے کے نتیجے یا کسی پیغام کے جواب کا انتظار کرتے ہوئے یہ بات بھی آپ کو پریشان کرتی ہے کہ جواب معلوم نہیں۔ آپ اس خالی جگہ کو ایک امکان سے بھرتے ہیں، پھر اس سے بھی بدتر امکان سے۔ نہ جاننے کی کیفیت بھی آپ کی بے چینی میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔
”اگر“ دو سمتوں میں چلتا ہے
لینا کے ذہن میں بار بار آنے والا لفظ دیکھیں: اگر۔ اگر ایسا ہوگیا تو؟ واقعہ ہوجانے کے بعد یہی لفظ دوسری سمت میں چلتا ہے: کاش میں نے ایسا کیا ہوتا۔
محقق نیل روز نے اس خلافِ واقعہ سوچ پر کئی دہائیوں کے مطالعات یکجا کیے2۔ مختصر مدت میں ہم زیادہ ان کاموں پر پچھتاتے ہیں جو کیے۔ طویل مدت میں ان موقعوں کا افسوس زیادہ نمایاں ہوتا ہے جن سے فائدہ نہیں اٹھایا: وہ یونیورسٹی جہاں داخلہ نہیں لیا، وہ بات جو نہیں کہی، وہ سفر جو ٹال دیا۔
ماضی کا ”کاش“ پچھتاوا پیدا کرتا ہے۔ مستقبل کا ”اگر“ بے چینی پیدا کرتا ہے۔ دونوں آپ کو اس لمحے سے کھینچ لیتے ہیں جو اب واقعی آپ کے اختیار میں ہے۔
جو ہاتھ میں رہ گیا
ابو بکر غار میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ ابو بکر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے کہا: ”اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔“ نبی ﷺ نے جواب دیا: ”ابو بکر، تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟“ (بخاری 3653)3۔
ابو بکر نے جو ہوسکتا تھا اسے بیان کرتے ہوئے بھی ”اگر“ کہا تھا۔ انسان اپنی پریشانی کو نام دے سکتا ہے، پھر اس چیز کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے جو اس لمحے اسے سہارا دیتی ہے۔ ہر امکان کو ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں بدل دینا وہ عمل ہے جسے ہم اس باب کی عملی تدبیر میں پرکھتے ہیں۔
انٹرویو کے بارے میں لینا کا سوال غار کے واقعے سے مختلف ہے۔ مگر عملی سوال ایک ہی ہے: اس وقت اس کے اختیار کی حد میں کیا ہے؟ جواب تیار کر چکی ہے۔ فون الگ رکھ کر سو سکتی ہے۔ انٹرویو لینے والے کی رائے، یا اس کے بعد آنے والی امیدوار، ایسا کام نہیں جو وہ صبح تین بجے مکمل کر سکے۔
آپ کے اختیار کی حدیں
معالج رابرٹ لیہی اپنی کتاب The Worry Cure4 میں بے چینی کی دو قسموں میں فرق کرتے ہیں۔ کارآمد بے چینی آپ کو تیاری یا ایسے قدم کی طرف لے جاتی ہے جو آپ اٹھا سکتے ہیں۔ بے نتیجہ بے چینی انہی امکانات کے گرد گھماتی رہتی ہے۔ عمل کا کوئی دروازہ نہیں کھولتی۔
لینا کو تیاری چاہیے تھی۔ آدھی رات کے بعد دسویں بار وہی تیاری دہرانا نہیں۔
2020 میں شائع ہوئے ایک مطالعے میں محققین لوکاس لافرینیئر اور مشیل نیومن نے عمومی اضطراب کے عارضے میں مبتلا انتیس افراد سے، علاج کے دوران، دس دن روز اپنی پریشانیاں لکھنے کو کہا5۔ ان اندیشوں کے نتائج کو تیس دن تک دیکھا۔ درج کیے گئے اندیشوں میں سے تقریباً 91% اس تیس روزہ مشاہدے کے دوران حقیقت نہیں بنے۔ ان شرکا کی بے چینی نے ہونے والے واقعات کا اندازہ بڑھا چڑھا کر لگایا تھا۔
اس رات تین بجے کے بعد لینا نے فون کے نوٹس میں لکھا: ”اب سو جاؤں۔“ نیچے لکھا: ”یقینی بناؤں کہ انٹرویو میں پُرسکون داخل ہوں۔“ ایک سطر اس کے اختیار میں تھی، دوسری کی ضمانت نہیں دے سکتی تھی۔ دونوں ایک ہی فہرست میں تھیں۔ دوسری کی ضمانت دینے کے لیے سوالوں کے صفحے پر لوٹ گئی۔ صبح ہونے کے قریب ہی سوئی۔
کب استعمال کریں: جب بے چینی ایسے نتیجے کے گرد گھومے جو آپ کے اختیار میں نہیں۔ درکار وقت: پہلے کالم کے لیے مجوزہ دس منٹ۔ پھر کاغذ پر لکھے قدم کا وقت آنے تک اسے بند کر دیں۔
ہر نیا ”اگر“ آئے تو اس مشق کی طرف لوٹیں:
- دونوں فہرستیں لکھیں: ایک کاغذ، دو کالم۔ پہلا: وہ قدم جو ابھی اٹھا سکتے ہیں، جیسے تیاری کرنا اور آج رات سونے کا وقت طے کرنا۔ دوسرا: وہ نتائج جن کی ضمانت نہیں دے سکتے، جیسے انٹرویو لینے والے کی رائے یا کسی دوسرے امیدوار کی موجودگی۔
- ہر ”اگر“ کو اس کے کالم میں رکھیں: ہر جملے کے لیے جو ”اگر ایسا ہوگیا تو“ یا ”کاش میں نے“ سے شروع ہو، پوچھیں: اس کی جگہ کہاں ہے؟ دوسرے کالم میں ہو تو اسے دیکھیں، اس سے بحث میں نہ پڑیں۔ پھر پہلے کالم کے کسی ممکن قدم کی طرف توجہ موڑیں۔
- جملہ بدلیں، احساس نہیں: ”اگر انہوں نے مجھے رد کر دیا تو؟“ کی جگہ کہیں: ”جو میرے اختیار میں تھا، اس کی تیاری کر لی۔ باقی میرے اختیار میں نہیں۔“ بے چینی محسوس کر سکتے ہیں۔ مگر ہر بار اس کے لیے نیا منظرنامہ نہ کھولیں۔
- کارآمد بے چینی کے لیے ایک وقت مقرر کریں: صرف دس منٹ، کوئی ممکن قدم تیار کرنے کے لیے، وہی منظرنامہ دہرانے کے لیے نہیں۔ اپنا قدم اور اس کا وقت لکھیں، پھر فائل بند کر دیں۔
اگر گر جائیں: جب اسی منظرنامے میں لوٹیں تو نئے ”اگر“ کو اس کے کالم میں رکھیں اور پہلے کالم سے ایک عمل چنیں۔
ایک مختصر رات
انٹرویو کی صبح، تین گھنٹے سونے کے بعد، لینا سے وہی سوال پوچھا گیا جس پر جاگتی رہی تھی: آپ اکاؤنٹنگ کیوں چھوڑنا چاہتی ہیں؟ اس نے کہا: ”اعداد سے تھک گئی ہوں۔“ پھر جملہ درست کرتے ہوئے اٹک گئی۔ اس کے بعد فائل کھولی اور وہ لوگو دکھایا جو چھ بار دوبارہ بنایا تھا۔ آواز سنبھل گئی۔
شام کو باورچی خانے کی میز پر بیٹھی۔ وہ جواب ذہن میں گھوم رہا تھا: اگر انہوں نے غلط سمجھا تو؟ اگر سمجھا کہ اپنے کام سے اکتا گئی ہے، ان کے کام سے بھی اکتا جائے گی؟
کاغذ لیا اور لکیر کھینچ کر دو کالم بنائے: ”جو میرے اختیار میں ہے“ اور ”جو میرے اختیار میں نہیں“۔ پہلے میں لکھا: انٹرویو لینے والوں کو شکریے کا مختصر پیغام، اور آدھی رات سے پہلے سونا۔ دوسرے میں لکھا: ان کا فیصلہ۔ پھر اپنا سوال: ”اگر انہوں نے میرا جواب غلط سمجھا تو؟“ جواب دیا جا چکا تھا۔ اب اسے سمجھنا ان کے اختیار میں تھا، اس کے نہیں۔ تین سطروں میں شکریے کا پیغام لکھا، بھیجا اور پہلے کالم سے کاٹ دیا۔ پھر فون باورچی خانے کی شیلف پر رکھا۔ اس کے بغیر سونے کے کمرے میں چلی گئی۔
بستر میں ”اگر“ نئے سوال کے ساتھ لوٹا: ”اگر انہوں نے اسی جملے کی وجہ سے مجھے رد کر دیا تو؟“ وہ اٹھ کر باورچی خانے جانے ہی لگی تھی کہ دیکھے جواب آیا یا نہیں۔ پھر ذہن میں سوال کو اس کی جگہ واپس رکھا: دوسرے کالم میں، ان کے فیصلے کے ساتھ۔ پہلے کالم میں صرف سونا باقی تھا۔ سرگوشی کی: ”جو میرے اختیار میں تھا، بھیج دیا۔ باقی میرے اختیار میں نہیں۔“ شوہر نے اونگھتے ہوئے پوچھا: ”کیا کہا؟“ بولی: ”اب سوتی ہوں۔“ اور آدھی رات سے پہلے سو گئی۔
”اگر“ کے بغیر ایک رات
آج رات ایک سوال، کل نہیں: اس مہینے جس ”اگر“ نے آپ کو ایک سے زیادہ بار جاگتا رکھا، وہ کس کالم میں ہے؟
پھر روشنی بجھانے سے پہلے یہ جملہ مکمل کریں: ”کل صبح میرے اختیار میں پہلی چیز یہ ہے کہ…“
انٹرویو کے اگلے دن صبح لینا نے کام کی فائل دراز میں رکھی۔ فون میز پر اوندھا رکھا۔ کام پر نکلنے سے پہلے تین بار اسے سیدھا کیا کہ جواب آیا یا نہیں۔ پھر بیگ میں ڈالا اور نکل گئی۔
حوالے (5)
- 1Dugas, M. J., Gagnon, F., Ladouceur, R., & Freeston, M. H. (1998). Generalized anxiety disorder: A preliminary test of a conceptual model. Behaviour Research and Therapy, 36(2), 215–226.
- 2Roese, N. J. (1997). Counterfactual thinking. Psychological Bulletin, 121(1), 133–148.
- 3بخاری، صحیح، حدیث 3653۔ ابو بکر سے روایت: غار میں نبی ﷺ سے گفتگو۔ صحیح۔ حدیث کا متن۔
- 4Leahy, R. L. (2005). The Worry Cure: Seven Steps to Stop Worry from Stopping You. Harmony Books.
- 5LaFreniere, L. S., & Newman, M. G. (2020). Exposing worry's deceit: Percentage of untrue worries in generalized anxiety disorder treatment. Behavior Therapy, 51(3), 413–423.