حصہ چہارم
وہ چہرے جو ہم اوڑھتے ہیں
آپ دوسروں کی زندگی دیکھنے کے لیے اسکرین کھولتے ہیں۔ پھر اپنی زندگی اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ وہ اسے دیکھیں۔ آپ دیکھتے بھی ہیں، کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں آپ کا اپنا چہرہ اوجھل ہوسکتا ہے۔ ہم اس چکر سے شروع کرتے ہیں۔ پھر ایک زیادہ باریک نقاب کے قریب جاتے ہیں: ایسی انکساری جو تالیوں کی منتظر ہے۔ ہم ان چیزوں پر نظر ڈالتے ہیں جو عادت بن جانے سے ہماری نظر سے اوجھل ہو گئیں، اور اس استثنا پر جو ہم خود کو دیتے ہیں جب ہمارا وعدہ کسی دوسرے کے حق سے ٹکرانے لگے۔ پھر اس آواز کے بارے میں پوچھتے ہیں جو آسمان کے نام پر بولتی ہے، اور اس بارے میں کہ جب ہم اپنے ذہن اس کے حوالے کر دیتے ہیں تو ڈوریں کس کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔
باب سیزدہم
کھڑکی اور اسٹیج کے درمیان
موازنہ چور سے استاد کیسے بن سکتا ہے؟ اور آپ کی قیمت کتنے لائکس ہے؟
سردیوں کے آخری دنوں کی ایک شام لینا ایک ہی پیغام کی منتظر تھی: ڈیزائن کی ملازمت کے انٹرویو کا جواب۔ دوپہر سے وہ چار بار ای میل کھول چکی تھی۔ کوئی نیا پیغام نہیں تھا۔ پانچویں بار ای میل کھولنے کے لیے اس نے فون اٹھایا، مگر اس کی جگہ یونیورسٹی کے زمانے کی ایک ساتھی کا اکاؤنٹ کھول لیا۔
پہلی تصویر: ایک کشادہ کھڑکی کے پاس کافی کی پیالی اور کھلی ہوئی کتاب۔ نیچے لکھا تھا: ”میری صبح سکون سے شروع ہوتی ہے۔“ ذرا نیچے گئی تو ساتھی کے پچھلے مہینے کے سفر کی تصویر نظر آئی: سمندر کے کنارے ایک شہر۔ اس کے بعد ایک تصویر تھی جس میں وہ ریت کے رنگ کا لمبا کوٹ پہنے کھڑی تھی۔ نیچے سیکڑوں تبصرے تھے۔ زیادہ تر یہی: ”تمہارا ذوق کتنا اچھا ہے!“ لینا نے وہ تصویر فون میں محفوظ کر لی۔ خود سے پوچھا بھی نہیں کہ کیوں۔
پھر اس نے اسکرین سے نظریں اٹھائیں۔ میز پر حسابات کی ایک جدول تھی جو صبح حوالے کرنی تھی۔ آج ابو نے دو بار فون کیا تھا۔ ان کے باورچی خانے کا نل ٹپک رہا تھا۔ انہیں معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ کسی جواب کی منتظر ہے۔ اپنے دن میں اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی جس کی تصویر بن سکتی۔ اسے اپنی پوری زندگی ساتھی کی زندگی سے چھوٹی لگنے لگی۔ اس نے اسے پیغام بھیجنے کا خانہ کھولا اور لکھا: ”کیسی ہو؟“ برسوں سے ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ سوال اسے عجیب لگا۔ بھیجے بغیر ایپ بند کر دی۔
آپ ایپ بند کر سکتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ تصویر زندگی کا ایک ٹکڑا ہے۔ پھر بھی ذہن میں موازنہ چلتا رہتا ہے۔ آپ کو اس چال کی مزید وضاحت نہیں چاہیے۔ ضرورت یہ ہے کہ آپ پہچانیں، اس تصویر میں آپ کیا ڈھونڈ رہے تھے: اپنی جیسی زندگی، کوئی چیز جو آپ سیکھ سکیں، یا وہ بات جو آپ چاہتے ہیں کوئی آپ کے بارے میں کہے۔
یہی کھڑکی کیوں؟
پچھلی صدی کے وسط میں ماہرِ نفسیات لیون فیسٹنگر نے ایک سادہ بات نوٹ کی۔ بعد میں اسی پر ایک مکمل نظریہ قائم ہوا1۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اپنی صلاحیتوں، رائے اور زندگی کے لحاظ سے ہم کہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے اس ضرورت کو ”سماجی موازنہ“ کہا۔ یہ عمل خودبخود ہوتا ہے۔ ہمیں اس میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کرنا پڑتا۔
جب اس کے لیے کوئی واضح پیمانہ نہ ہو، نہ کوئی عدد نہ اختتامی لکیر، تو ہم ایک اور پیمانہ اختیار کرتے ہیں: دوسرے لوگ۔ مگر ہر شخص نہیں۔ ہم خود کو ان سے تولتے ہیں جو ہم جیسے ہوں: تقریباً ہماری عمر کے، اسی سال فارغ التحصیل ہونے والے، یا انہی حالات سے گزرنے والے۔
لینا کی ساتھی اسی کے ساتھ اسی سال فارغ التحصیل ہوئی تھی۔ دونوں انہی کلاس روموں میں بیٹھی تھیں۔ اس لیے لینا کو ان تصویروں میں کسی اجنبی عورت کی زندگی نہیں، اپنی زندگی کو تولنے کا پیمانہ دکھائی دیتا ہے۔
مصنف لیوک برجس اپنی کتاب Wanting میں فرانسیسی مفکر رینے جیرار سے ایک تصور لیتے ہیں جس کا نام ”تقلیدی خواہش“ ہے2۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہماری اکثر خواہشیں اتنی ہماری اپنی نہیں ہوتیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ ہمیں چیزیں اس لیے چاہییں کہ ہم جیسا کوئی شخص انہیں چاہتا ہے، ان کا مالک ہے، یا ان کے ساتھ خوش نظر آتا ہے۔ ہماری خواہش کسی ایسے شخص کی خواہش سے مستعار ہوتی ہے جسے ہم اپنا نمونہ سمجھتے ہیں۔ وہ صرف ہمارے اندر سے نہیں اٹھتی۔
چور سے استاد تک
محققین نیلز فان دے وین، مارسل زیلنبرگ اور رک پیٹرز نے اس کیفیت کی دو الگ قسموں کا مطالعہ کیا جسے ہم ایک ہی نام، ”حسد“ دیتے ہیں3۔ پہلی قسم میں خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے کے پاس جو ہے، وہ اس سے چھن جائے۔ دوسری میں آدمی خود وہاں پہنچنا چاہتا ہے جہاں دوسرا ہے، اس کے لیے برا چاہے بغیر۔ محققین اسے ”خیرخواہ حسد“ کہتے ہیں۔ اس کے مقابل پہلی قسم کو کہتے ہیں: ”بدخواہ حسد“۔
پہلا چور ہے: آپ کی موجودہ خوشی چرا لیتا ہے، بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ دوسرا استاد ہے: دکھاتا ہے کہ کیا ممکن ہے، اور وہاں پہنچنے کا کام آپ کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
آپ کی سہیلی دوڑ جیتے تو دل کی چبھن آپ کو اس کی ہار چاہنے کی طرف لے جا سکتی ہے، یا اس سے تربیت کا پروگرام پوچھنے کی طرف۔ پہلی چبھن ہمیشہ آپ کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ مگر اس کے بعد کیا کریں گے، یہ آپ چن سکتے ہیں۔
یہ یاد دہانی نظر کو دوبارہ آپ کے پاس موجود چیزوں کی طرف لوٹاتی ہے: ”اپنے سے کم تر حال والوں کو دیکھو، اپنے سے بہتر حال والوں کو نہ دیکھو۔ اس طرح زیادہ امکان ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کو حقیر نہ جانو جو تمہیں ملی ہیں۔“ (مسلم 2963)4۔
جب آپ کھڑکی اپنی طرف موڑتے ہیں
آپ دوسروں کی کھڑکی بند کر کے ان کے لیے اپنی کھڑکی بھی کھول سکتے ہیں۔ یہاں سوال بدل جاتا ہے۔ ”میری زندگی ایسی کیوں نہیں؟“ کی جگہ سوال ہوتا ہے: ”میں انہیں اپنی زندگی ایسی کیسے دکھاؤں؟“
آپ سکون کے بارے میں پوسٹ لکھتے ہیں۔ اس کے لیے تصویر چنتے ہیں۔ پھر ایک عدد کا انتظار کرتے ہیں جو تسلی دے کہ دیکھنے والوں نے اس پر یقین کر لیا۔
دو منٹ بعد اسکرین کھولتے ہیں: تین لائکس۔ بند کرتے ہیں، پھر کھولتے ہیں: سات۔ ذرا سا اطمینان ملتا ہے۔ پھر سوال واپس آتا ہے کہ کتنے کافی ہوں گے۔
ان لوگوں کی رائے آپ کے لیے کیوں اہم ہے جن کے نام تک آپ نہیں جانتے، جن سے آپ کبھی ملیں گے بھی نہیں؟
ماہرِ عمرانیات اِروِنگ گافمین نے اپنی کتاب ”The Presentation of Self in Everyday Life“5 میں ایک سادہ تصور پیش کیا: ہم میں سے ہر شخص چنتا ہے کہ دوسرے کے سامنے خود کو کس طرح پیش کرے۔
انہوں نے اسے تھیٹر کی زبان میں بیان کیا: تماشائیوں کے سامنے ہم اپنا کردار سنبھالتے ہیں۔ پردے کے پیچھے اسے چھوڑنے کی گنجائش ملتی ہے۔ مگر اسکرین تماشائیوں کو آپ کے ساتھ کمرے میں لے آتی ہے، تب بھی جب آپ اکیلے ہوں۔
کیا دکھانا ہے، اس کا انتخاب بذاتِ خود جھوٹ نہیں۔ مگر جب آپ کے تماشائی ایک ایسے عدد میں بدل جائیں جو کبھی نہیں سوتا تو اس کی کتنی قیمت چکاتے ہیں؟
محقق ایڈم آلٹر نے اس تبدیلی کے بارے میں اپنی کتاب Irresistible6 میں لکھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انجینئروں نے جان بوجھ کر ان ایپس کو اس طرح بنایا کہ ان کی طرف دیکھنا چھوڑنا آپ کے لیے مشکل ہو۔
اسکرین کھولنے سے پہلے آپ نہیں جانتے کتنے لائکس منتظر ہیں یا کس نے تبصرہ کیا ہے۔ کبھی ملنے والا اور کبھی نہ ملنے والا انعام آپ کو پھر لوٹ کر معلوم کرنے کی طرف کھینچتا ہے۔
سکون کی تصویر کے پیچھے
لینا کی ساتھی کے اکاؤنٹ کو تقریباً چالیس ہزار لوگ فالو کرتے ہیں۔ ہر صبح وہ کھڑکی کے پاس اپنی کافی کی تصویر اور سکون کے بارے میں ایک جملہ پوسٹ کرتی ہے۔ تبصرے تعریف سے بھر جاتے ہیں۔
مزید تین راتیں گزر گئیں۔ کمپنی سے جواب نہیں آیا۔ ہر رات لینا اپنی ساتھی کی تصویروں کی طرف لوٹی۔ چوتھی رات پیغام کا خانہ کھولا تو ”کیسی ہو؟“ وہیں ملا جہاں چھوڑا تھا۔ وہ اپنی ساتھی کو صرف تصویروں سے جانتے رہنے سے تھک گئی تھی۔ اس نے پیغام بھیج دیا۔
صبح جواب آیا، توقع سے بالکل مختلف: ”مہینوں سے ایک رات بھی سکون سے نہیں سوئی۔ سکون کے بارے میں لکھتی ہوں، پھر صبح تین بجے تک تبصرے دیکھتی رہتی ہوں۔“ اس نے بتایا کہ کل ایک تبصرہ حذف کیا تھا: ”یہ سب کچھ بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا ہے۔“ وہ جانتی تھی لکھنے والا ٹھیک کہہ رہا ہے۔ فالو کرنے والے ہر صبح اس سے پُرسکون چہرہ چاہتے ہیں، ان دنوں بھی جب اسے خود کسی تسلی دینے والے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آخر میں لکھا: ”بہت عرصے بعد تم پہلی ہو جس نے میرا حال پوچھا ہے۔“
لینا نے جواب دو بار پڑھا۔ یہ جان کر اسے خوشی نہیں ہوئی۔ نہ لگا کہ اس نے کچھ جیت لیا ہے۔ مگر سمجھ گئی کہ کافی کی تصویر ساتھی کے دن کی ایک جھلک ہے، اس کا پورا دن نہیں۔ پھر اس نے اسے انٹرویو اور اس جواب کے بارے میں لکھا جس کا انتظار کر رہی تھی۔
معیار آپ کی چنی ہوئی تصویر سے کہیں وسیع ہے۔ باب 6 میں گزرنے والی حدیث یاد کریں: اللہ صورتوں اور مال کو نہیں، دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ آئیے اس عمل کی طرف لوٹیں جو اسکرین بند ہونے کے بعد ہماری زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔
تصویر سے پہلے خواہش
لینا جان چکی تھی ساتھی کی تصویروں کے پیچھے کیا ہے۔ پھر بھی دوپہر کے کھانے کے وقفے میں محفوظ کی ہوئی تصویر کھولی: ریت کے رنگ کا کوٹ، نیچے ”تمہارا ذوق کتنا اچھا ہے!“ اس نے آن لائن دکان میں کوٹ تلاش کیا۔ صفحہ پورا کھلنے سے پہلے ہی قیمت کا حساب لگا لیا تھا: تنخواہ کا ایک تہائی۔ نوٹس کھولے کہ لکھے اسے کیوں چاہیے۔ لکھا: ”انہیں محسوس ہوگا کہ میں بدل گئی ہوں۔“ پھر لکھا: ”وہ کہیں گے: تمہارا ذوق کتنا اچھا ہے۔“ دونوں سطریں پڑھیں تو وہ لوگوں کے بارے میں تھیں، کوٹ کے بارے میں نہیں۔ مٹا کر ان کی جگہ لکھا: ”کیا مجھے واقعی یہ چاہیے، یا میں صرف اس سے کم تر نظر نہیں آنا چاہتی؟“ ابھی جواب معلوم نہیں تھا۔ دکان کا صفحہ بند کیا اور کھانا مکمل کیا۔
ایک کھڑکی جس سے سیکھیں، ایک زندگی جسے جیئیں
کب استعمال کریں: جب اسکرین سے نکل کر خود کو کم تر محسوس کریں، یا یہ جاننے کے لیے لائکس کی گنتی کا انتظار کریں کہ آپ کے کیے کی کیا قدر ہے۔ درکار وقت: ابھی پانچ منٹ، ایک ہفتے بعد جائزہ۔
دیکھتے ہوئے دو سمتوں کا یہ اصول آزمائیں۔
- دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے دیکھیں: مال، سامان اور سنواری ہوئی تصویریں۔ ان کے سامنے کمی محسوس ہو تو ان لوگوں کو یاد کریں جن کے پاس یہ چیزیں آپ سے کم ہیں۔ ان کی کم حالی پر خوش ہونے کے لیے نہیں، اپنے پاس جو ہے اس پر راضی ہونے کے لیے۔
- نیکی اور ہنر میں اپنے سے اوپر دیکھیں: کسی نے وہ نماز شروع کر دی جو آپ نے ابھی شروع نہیں کی۔ کوئی آپ سے زیادہ پڑھتا ہے، یا اس کھیل یا زبان میں ماہر ہے جو آپ بھی سیکھ رہے ہیں۔ یہاں اپنے سے آگے والے کو دیکھیں، اس تک پہنچنے کے لیے، اس سے حسد کرنے کے لیے نہیں۔
- اپنی خواہش پرکھیں: کیا آپ کو واقعی یہ چاہیے، یا صرف اس کے مالک سے کم تر نظر نہیں آنا چاہتے؟ ایسا مقصد چنیں جو آپ کے لیے اہم ہو، ایسا شخص جس سے سیکھ سکیں، اور ایسا قدم جس سے آغاز کریں۔
- پوسٹ کرتے ہوئے اصل دیکھنے والے کو تلاش کریں: ایک حقیقی شخص کا نام لکھیں: آپ واقعی کسے یہ دکھانا چاہتے ہیں؟ کوئی نام ذہن میں نہ آئے تو پوسٹ کرنے سے پہلے ایک گھنٹہ رکیں۔
- ہر پوسٹ کے بعد خود سے پوچھیں: اگر آج رات ہر جگہ سے لائکس کی گنتی غائب ہو جائے تو کیا کل بھی آپ یہی کام کریں گے؟
آگے پڑھنے سے پہلے ابھی شروع کریں: ایک ایپ کی ترتیبات کھولیں اور صرف لائکس کے نوٹیفکیشن بند کر دیں۔
اگر گر جائیں: اگر پھر اکاؤنٹ یا گنتی کی طرف لوٹیں تو اگلی تصویر پر سوال دوبارہ پوچھیں۔ نئے ہفتے کا انتظار نہ کریں۔
اس رات لینا نے ایپ کے نوٹیفکیشن بند کیے۔ دس منٹ بعد خود ہی اسے کھول لیا۔ ساتھی نے اسی سفر کی ایک اور تصویر پوسٹ کی تھی: غروب کے وقت سمندر۔ اسے ”اگر گر جائیں“ والی سطر یاد آئی۔ اس تصویر کے سامنے سوال پھر پوچھا: کیا مجھے واقعی یہ چاہیے؟ اسے معلوم ہوا کہ اسے سمندر یا سفر کی آرزو نہیں۔ اسے بس ایک گھنٹہ چاہیے جس میں کوئی اس سے کچھ نہ مانگے، اور وہ کسی چیز کا انتظار نہ کرے: نہ حسابات کی جدول، نہ ابو کا نل، نہ انٹرویو کا جواب۔ شوہر سے یہ کہا تو وہ بولا: ”تو پھر تھوڑی دیر برتن چھوڑ دیتے ہیں۔“ وہ ہنس پڑی اور بھرے ہوئے سنک کو دیکھا۔ طے ہوا کہ رات کے کھانے کے بعد آدھا گھنٹہ کام اور اسکرین کے بغیر گزاریں گے۔
اگلی رات کھانے کے بعد لینا نے فون باورچی خانے کی شیلف پر رکھا۔ شوہر نے اپنا فون اس کے ساتھ رکھ دیا۔ برتن سنک میں چھوڑے اور چائے کی پیالی لے کر بیٹھک کی کھڑکی کے پاس بیٹھ گئی۔ شوہر بھی اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کھڑکی کے پیچھے سمندر نہیں تھا۔ ان کی گلی اور سامنے کی دکان کی روشنی تھی۔ وہ انٹرویو کا جواب دیکھنے کے لیے نہیں اٹھی۔ چائے گرم ہی پی لی۔
زیادہ باریک نقاب
تماشائی ہمیشہ ہزاروں فالو کرنے والے نہیں ہوتے۔ یہ سنواری ہوئی تصویر سے بھی زیادہ باریک نقاب ہے: ایک چھوٹی سی ٹیم جو آپ کا نام جانتی ہے، اور آپ اس سے وہ بات سننے کے منتظر ہیں جو آپ اپنے بارے میں صاف نہیں کہتے۔
کھیل کی ٹیم کو جتوانے کے بعد کریم کے منہ سے ایک جملہ نکلا جو بار بار آنے لگا: ”میں نے کیا ہی کیا ہے۔“
اس راؤنڈ کے لیے اس نے ٹیم کے ساتھ ہفتوں مشق کی تھی۔ پھر بھی یہی کہا، اور خاموش ہو کر انتظار کرنے لگا۔
کریم مسکرایا اور گفتگو میں تعریف کے لیے ذرا سی جگہ چھوڑ دی۔ ٹیم کے ساتھی نے ہنستے ہوئے کہا: ”صحیح، ہمیں تو تم راؤنڈ میں نظر ہی نہیں آئے۔“ کریم نے ماؤس ہلایا اور چیٹ کی کھڑکی بند کر دی۔ اگلے راؤنڈ میں اپنا پرانا جملہ پھر کہا: ”میں نے کیا ہی کیا ہے۔“ اسے تبھی احساس ہوا کہ یہ کہہ چکا ہے جب دوسرے خاموش ہوگئے۔
اس نے ہیڈسیٹ ذرا ہٹایا۔ اسکرین پر اس تربیت کا ریکارڈ تھا جس میں ہفتے لگائے تھے۔ گفتگو میں ایک جملہ تھا کہ اس نے کچھ کیا ہی نہیں۔ لکھنے کا خانہ کھولا۔ لمبا جواب لکھا جس میں بتایا کہ راؤنڈ میں کیا کیا تھا، پھر رک گیا۔ ساتھی کی آواز آئی: ”کریم، سن رہے ہو؟“ کریم نے پورا جواب مٹا دیا اور کہا: ”سن رہا ہوں۔“
ایک جملے سے کہنے والے کی نیت معلوم نہیں ہو جاتی۔ البتہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئی بار بار اپنی محنت کو کم کر کے بیان کرتا ہے، اور انتظار کرتا ہے کہ کوئی دوسرا اس کے برعکس کہے۔
سیزر، جینو اور نورٹن نے شیخی کو شکایت یا ظاہری انکساری کے ساتھ ملانے کو ”عاجزی کی آڑ میں شیخی“ کہا7۔ ان کے تجربات میں یہ انداز کھلی شیخی سے کم سچا لگا۔ یہ نتیجہ سننے والے کے تاثر کے بارے میں ہے۔ ہر بولنے والے کی نیت میں جھانکنے کی کھڑکی نہیں۔
کب استعمال کریں: جب اپنی محنت کو کم بتائیں اور منتظر رہیں کہ کوئی اس کی قدر بتائے، یا ایسی اصلاح ناگوار لگے جس میں ایک بات درست ہو۔ درکار وقت: اس ہفتے ایک چھوٹی گفتگو میں ایک منٹ۔
- اپنی انکساری کا جملہ کہنے سے پہلے پرکھیں: کیا آپ محنت کا منصفانہ بیان کر رہے ہیں، یا تعریف حاصل کرنے کے لیے اسے کم بتا رہے ہیں؟
- جواب دینے سے پہلے اپنے اندر اٹھنے والی بے چینی کو پہچانیں۔ پھر ایک جملے میں اپنی محنت بتائیں، نہ بڑھا کر نہ گھٹا کر: ”میں نے اس پر محنت کی ہے، اور مجھے اس پر فخر ہے۔“
- اگر کوئی آپ کی کسی بات کو درست کرے اور اس کی بات صحیح ہو تو کہیں: ”ہاں، اس بات میں تم ٹھیک کہتے ہو۔“ ایسی صفائی دیے بغیر جو اسے بے اثر کر دے۔ اگر درستی واضح نہ ہو تو وضاحت مانگیں۔
- کسی قابلِ اعتماد شخص سے ایسی رائے مانگیں جو آپ کو پسند نہ آئے۔ ایک منٹ دفاع کیے بغیر سنیں۔
اگر گر جائیں: ایک ایسی بات کی طرف لوٹیں جسے آپ تسلیم کر سکتے ہیں۔
اگلی گفتگو میں کریم نے کہنا شروع کیا: ”میں نے کیا ہی…“ پھر رک گیا۔ ساتھی ہنسا اور کہا: ”دوبارہ کہو۔“ کریم نے تربیت کا ریکارڈ دیکھا، پھر کہا: ”میں نے اس پر محنت کی ہے، اور مجھے اس پر فخر ہے۔“ ٹیم ایک لمحہ خاموش رہی۔ ساتھی نے کہا: ”اور تمہیں ہونا بھی چاہیے۔“ اندر کی بے چینی ختم نہیں ہوئی۔ مگر اس نے اپنا جملہ واپس لے کر انہیں تعریف پر مجبور نہیں کیا۔ جب ساتھی نے راؤنڈ کی ایک آخری حرکت کی اصلاح کی تو وہ تقریباً یہ صفائی دینے ہی لگا تھا کہ وہ غلط کیوں نہیں تھا۔ پھر کہا: ”ہاں، اس بات میں تم ٹھیک کہتے ہو۔“
راؤنڈ ختم ہوا۔ اس میں اس نے دو ایسی باتیں کہیں جو پہلے نہیں کہتا تھا: اپنی کی ہوئی محنت، اور ایک غلطی جسے درست کر سکتا تھا۔ ان کے بعد تعریف کا انتظار نہیں کیا۔ پورے راؤنڈ کا دفاع بھی نہیں کیا۔ تربیت کا ریکارڈ بند کیا، ہیڈسیٹ اتارا اور اسکرین بند کر دی۔ یہ دیکھنے کے لیے چیٹ میں واپس نہیں گیا کہ کس نے جواب دیا۔
سچی محنت تسلیم کرنے اور درست بات ماننے کے لیے گنتی کی ضرورت نہیں۔ جو ”ہاں، تم ٹھیک کہتے ہو“ کہتا ہے، وہ ”میں نے اپنا وعدہ توڑا“ کہنے کی گنجائش بھی چھوڑتا ہے۔ جس کی رائے پر آپ بھروسا کرتے ہیں وہ دونوں کا سچا گواہ بن سکتا ہے۔
ایک صفحہ جو پوسٹ نہیں ہوگا
پانچ منٹ لیں، فون پاس نہ ہو۔ کاپی میں لکھیں: کون سا اکاؤنٹ آپ کو سکھانے سے زیادہ آپ سے چھین لیتا ہے؟ ایک ہفتے کے لیے اسے چھپا کر دیکھیں۔ پھر پوچھیں: آپ کے اکاؤنٹ میں کون سا احساس دکھائی دیتا ہے؟ کیا ان دنوں آپ واقعی اسے محسوس کرتے ہیں؟ وہ جملہ بھی لکھیں جس سے آپ جاننے والوں کے سامنے اپنی محنت کم بتاتے ہیں۔ اس کے بعد آپ ان سے کیا سننے کے منتظر ہوتے ہیں؟
پھر کاپی بند کر دیں۔ کسی کو یہ صفحہ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہی بات اسے لکھنے کے قابل بناتی ہے۔
بخار کے باعث کریم دو ہفتے بستر پر پڑا رہا۔ اس کے بعد وہ دوڑنے والے کاغذ کی طرف نہیں لوٹا۔ مگر ہاسٹل کے اپنے کمرے سے ابو کو فون کیا تاکہ اپنا نیا جملہ کہے: ”میں نے اس سمسٹر میں محنت کی ہے، اور مجھے اس پر فخر ہے۔“ ابو ایک لمحہ خاموش رہے، پھر کہا: ”شاباش۔ لیکن…“
حوالے (7)
- 1Festinger, L. (1954). A theory of social comparison processes. Human Relations, 7(2), 117–140.
- 2Burgis, L. (2021). Wanting: The Power of Mimetic Desire in Everyday Life. St. Martin's Press.
- 3van de Ven, N., Zeelenberg, M., & Pieters, R. (2011). Why envy outperforms admiration. Personality and Social Psychology Bulletin, 37(6), 784–795. (benign envy / malicious envy)
- 4مسلم، صحیح، زہد اور رقتِ قلب کی کتاب، حدیث 2963، ابو معاویہ کی روایت۔ حدیث کا متن۔
- 5Goffman, E. (1959). The Presentation of Self in Everyday Life. Doubleday.
- 6Alter, A. (2017). Irresistible: The Rise of Addictive Technology and the Business of Keeping Us Hooked. Penguin Press.
- 7Sezer, O., Gino, F., & Norton, M. I. (2018). Humblebragging: A distinct—and ineffective—self-presentation strategy. Journal of Personality and Social Psychology, 114(1), 52–74. doi:10.1037/pspi0000108.